الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 231
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۳۱ الاستفتاء كَلِمُ اللَّنَامِ اسِنَّةٌ مَذْرُوبَةٌ وَصُدُورُهُمْ كَالْحَرَّةِ الرَّجُلاءِ کمینوں کی باتیں تیز نیزے ہیں اور ان کے سینے سخت سنگلاخ زمین کی طرح ہیں۔مَنْ حَارَبَ الصِّدِّيقَ حَارَبَ رَبَّهُ وَنَبيَّهُ وَطَوَائِفَ الصُّلَحَاءِ جو شخص صدیق سے لڑائی کرتا ہے وہ اپنے رب اور اس کے نبی اور صلحاء کے گروہوں سے جنگ کرتا ہے۔وَاللَّهِ لَا اَدْرِى وُجُوهَ كُشَاحَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنَّ الْبُخْلَ فَارَ كَمَاءِ اللہ کی قسم ! میں ان کی دشمنی کی وجوہ نہیں جانتا بجز اس کے کہ بجل نے ان میں (چشمہ کے ) پانی کی طرح جوش مارا ہے۔مَا كُنتُ اَحْسَبُ أَنَّهُمْ بِعَدَاوَتِي يَذَرُونَ حُكْمَ شَرِيعَةٍ غَرَّاءِ (١٠) و مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ وہ میری عداوت میں روشن شریعت کے حکم کو بھی چھوڑ دیں گے۔عَادَيْتُهُمْ لِلَّهِ حِيْنَ تَلَاعَبُوا بِالدِّينِ صَوَّالِينَ مِنْ عُلَوَاءِ میں خدا کی خاطر ان کا دشمن ہوا جب وہ دین سے کھیلنے لگے۔جب کہ وہ حد سے بڑھتے ہوئے حملہ کرنے لگے۔ربِّيتُ مِنْ دَرِّ النَّبِيِّ وَعَيْنِهِ أُعْطِيتُ نُورًا مِّنْ سِرَاج حِرَاءِ میں بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے دودھ اور آپ کے چشمے سے پلا ہوں اور غار حرا کے آفتاب سے مجھے نور عطا کیا گیا ہے۔الشَّمْسُ سُ أُمِّ وَالْهَلَالُ سَلِيْلُهَا يَنْمُرُ وَيَنْشَأُ مِنْ ضِيَاءِ ذُكَاءِ سورج ماں ہے اور ہلال اس کا فرزند جو سورج کی روشنی سے نشوونما پاتا ہے۔ى طَلَعْتُ كَمِثْلِ بَدْرٍ فَانْظُرُوا لَا خَيْرَ فِي مَنْ كَانَ كَالْكَهُمَاءِ بے شک میں بدر کی طرح طلوع ہوا۔سو تم دیکھو۔اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو کمزور نظر والی عورت کی طرح ہو۔يَارَبِّ اَيَّدُنَا بِفَضْلِكَ وَانْتَقِمُ مِمَّنْ يَّدُعُ الْحَقَّ كَالْغُنَّـاءِ اے میرے رب ! ہماری تائید کر اپنے فضل سے اور انتقام لے اس شخص سے جوحق کوخس و خاشاک کی طرح دھتکارتا ہے۔يَارَبِّ قَوْمِي غَلَّسُوا بِجَهَالَةٍ فَارُحَمُ وَأَنْزِلُهُمُ بِدَارِضِيَاءِ اے میرے رب ! میری قوم جہالت سے اندھیرے میں چلی گئی ہے سو تو رحم کر اور انہیں روشنی کے گھر میں اتار۔يَالَائِمِيُّ إِنَّ الْعَوَاقِبَ لِلتَّقَى فَارُبَا مَالَ الْأَمْرِ كَالْعُقَلَاءِ اے مجھے ملامت کرنے والے! انجام متقیوں کے حق میں ہوا کرتا ہے پس تو دانشمندوں کی طرح مآل کار کے بارہ میں غور و فکر کر۔