الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 230
ضميمه حقيقة الوحي ۲۳۰ الاستفتاء هُمْ يُذْعِرُونَ بِصَيْحَةٍ وَنَعُدُّهُمْ فِي زُمُرِ مَوْتَى لَا مِنَ الْأَحْيَاءِ وہ چیخ و چلا کر ( ہمیں) ڈراتے ہیں حالانکہ ہم انہیں مردوں کے زمرہ میں شمار کرتے ہیں نہ کہ زندوں میں۔ كَيْفَ التَّخَوُّفُ بَعْدَ قُرُبِ مُشَجِّعٍ مِنْ هَذِهِ الْأَصْوَاتِ وَالضَّوْضَاءِ جرأت عطا کرنے والے ( خدا ) کے قرب کے بعد ان آوازوں اور شور و غونا سے ڈر کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ يَسْعَى الْخَبِيتُ لِيُطْفِئَنُ أَنْوَارَنَا وَالشَّمْسُ لَا تَخْفَى مِنَ الْإِخْفَاءِ خبیث کوشش کرتا ہے کہ ہمارے انوار کو بجھا دے اور آفتاب تو چھپانے سے چھپ نہیں سکتا۔ إِنَّ الْمُهَيْمِنَ قَدْ اَتَمَّ نَوَالَهُ فَضُلا عَلَى فَصِرْتُ مِنْ نُحَلَاءِ بے شک خدائے نگہبان نے اپنی بخشش کو کمال تک پہنچا دیا ہے مجھ پر فضل کرتے ہوئے پس میں بخشش کرنے والوں میں سے ہو گیا۔ نُعْطِي الْعُلُوْمَ لِدَفْعِ مَتْرَبَةِ الْوَرى طَالَتْ آيَادِينَا عَلَى الْفُقَرَاءِ مخلوق کی تنگ دستی دور کرنے کے لئے ہم علوم کا مال عطا کرتے ہیں اور محتاجوں پر ہمارے احسانات بہت زیادہ ہو گئے ہیں إِنْ شِئْتَ لَيْسَتْ اَرْضُنَا بِبَعِيدَةٍ مِنْ اَرْضِكَ الْمَنْحُوسَةِ الصَّيْدَاءِ اگر تو بھی کچھ لینا چاہتا ہے تو ہماری زمین کچھ دور نہیں ہے تیری اس زمین سے جو منحوس، سپاٹ اور سنگلاخ ہے۔ صَعْبٌ عَلَيْكَ زَمَانُ سُئَلِ مُحَاسِبٍ إِنْ مِتَّ يَا خَصْمِي عَلَى الشَّحْنَاءِ حساب لینے والے (خدا) کے سوالوں کی گھڑی تجھ پر سخت ہو گی۔ اے میرے دشمن ! اگر تو کینے میں مر گیا۔ مَا جِئْتُ مِنْ غَيْرِ الضُّرُورَةِ عَابِثًا قَدْ جِئْتُ مِثْلَ الْمُزْنِ فِي الرَّمْضَاءِ میں بے ضرورت اور بے مقصد نہیں آیا بلکہ میں تپتی ہوئی زمین پر بارش برسانے والے بادل کی طرح آیا ہوں ۔ عَيْنٌ جَرَتْ لِعِطَاشِ قَوْمٍ اضْجِرُوا أَوْمَاءُ نَقْعِ طَافِحٍ لِظِمَـاءِ پیاس کے مارے بے گل لوگوں کے لئے ایک چشمہ جاری ہو گیا اور پیاسوں کے لئے بہت ساصاف پانی جاری ہو گیا ہے۔ إِنِّي بِأَفْضَالِ الْمُهَيْمِنِ صَادِقٌ قَدْ جِئْتُ عِنْدَ ضُرُورَةٍ وَ وَبَاءِ بے شک میں خدائے نگہبان کے فضلوں سے صادق ہوں اور میں ضرورت اور وبا کے وقت آیا ہوں۔ ثُمَّ اللَّنَامُ يُكَذِّبُونَ بِخُبْتِهِمْ لَا يَقْبَلُوْنَ جَوَائِزِى وَعَطَائِي پھر بھی کمینے لوگ اپنے محبت کی وجہ سے مجھے جھٹلاتے ہیں اور میری بخشش و عطا کو قبول نہیں کرتے۔