الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 229

ضميمه حقيقة الوحى ۲۲۹ الاستفتاء إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ رَبًّا مُحْسِنًا فَاَرَى عُيُونَ الْعِلْمِ بَعْدَ دُعَائِي میں نے اپنے اللہ رب محسن سے درخواست کی تو میری دعا کے بعد اس نے ( مجھے ) علم کے چشمے دکھا دیئے۔ إِنَّ الْمُهَيْمِنَ لا يُعِزُّ بِنَخْوَةٍ إِنْ رُمْتَ اِعْزَارًا فَكُنُ كَعَفَاءِ بے شک خدائے نگہبان تکبر پر عزت نہیں دیتا ۔ اگر تو اعزاز حاصل کرنا چاہتا ہے تو خاک کی طرح ہو جا۔ وَاللَّهِ قَدْ فَرَّطْتَ فِي أَمْرِى هَوَى وَاَبَيْتَ كَالْمُسْتَعْجِلِ الْخَطَّاءِ خدا کی قسم ! تو نے ہوا و ہوس کی وجہ سے میرے معاملے میں کوتاہی کی ہے اور جلد باز خطا کار کی طرح انکار کر دیا ہے۔ الْحُرُّ لَا يَسْتَعْجِلَنُ بَلُ إِنَّهُ يَرُنُو بِامْعَانٍ وَكَشْفِ غِطَاءِ تعصب سے آزاد (انسان) جلد بازی نہیں کیا کرتا وہ گہری نظر سے اور پردہ اٹھا کر دیکھتا ہے۔ يَخْشَى الْكِرَامُ دُعَاءَ اَهْلِ كَرَامَةٍ رُحُمًا عَلَى الْأَزْوَاجِ وَالْأَبْنَاءِ شرفا اپنے بیوی بچوں پر رحم کرتے ہوئے اہلِ کرامت کی دعا سے ڈرتے ہیں۔ عِنْدِي دُعَاء خَاطِفٌ كَصَوَاعِقٍ فَحَذَارِثُمٌ حَذَارِ مِنْ أَرْجَائِي میری دعا ایسا تیر ہے جو بجلیوں کی طرح تیزی سے اپنے نشانے پر جا لگتا ہے ( پس مخالفانہ طور پر ) میرے قریب آنے سے بچو اور پھر بچو۔ وَاللهِ إِنِّي لَا أُرِيدُ إِمَامَةً هَذَا خَيَالُكَ مِنْ طَرِيقِ خَطَاءِ خدا کی قسم! میرا امام بننے کا خود کوئی ارادہ نہیں۔ تیرا یہ خیال غلطی سے پیدا ہوا ہے۔ إِنَّا نُرِيدُ اللَّهَ رَاحَةَ رُوحِنَا لَا سُودَدًا وَرِيَاسَةً وَعَلَاءِ بے شک ہم تو صرف اللہ کو چاہتے ہیں جو ہماری روح کی راحت ہے۔ ہم کسی سرداری ریاست اور غلبہ کو نہیں چاہتے ۔ إِنَّا تَوَكَّلْنَا عَلَى خَلَّاقِنَا مُعْطِي الْجَزِيلِ وَ وَاهِبِ النَّعْمَاءِ ہم نے اپنے پیدا کرنے والے پر توکل کیا ہے جو بہت دینے والا اور نعمت کا عطا کرنے والا ہے۔ مَنْ كَانَ لِلرَّحْمنِ كَانَ مُكَرَّمًا لَا زَالَ أَهْلَ الْمَجْدِ وَالآلَاءِ جو خدا کا ہو گیا وہ بزرگ بن جاتا ہے اور وہ ہمیشہ بزرگی اور نعمتوں والا بنا رہتا ہے۔ إِنَّ الْعِدًا يُؤْذُونَنِي بِخَبَاثَةٍ يُؤْذُونَ بِالْبُهْتَانِ قَلْبَ بَرَاءِ بے شک دشمن خباثت سے مجھے تکلیفیں دے رہے ہیں وہ بہتان لگا کر ایک بے گناہ انسان کے دل کو ایذا پہنچارہے ہیں۔