الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 223

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۲۳ الاستفتاء إِنْ كُنْتَ تَحْسُدُنِي فَإِنِّي بَاسِلٌ أَصْلِى فُؤَادَ الْحَاسِدِ الْخَطَّاءِ اگر تو مجھ سے حسد کرتا ہے تو میں ایک دلاور آدمی ہوں حاسد خطا کار کے دل کو جلاتا ہوں۔كَذَّبْتَنِيْ كَفَّرْتَنِي حَقَّرُتَنِي وَاَرَدْتَ أَنْ أَسْفَى كَمِثْلِ عَفَاءِ تو نے میری تکذیب کی مجھے کافر کہا اور مجھے حقیر سمجھا اور تو نے ارادہ کیا ہے کہ میں مٹی کی طرح اُڑا دیا جاؤں۔هذَا إِرَادَتُكَ الْقَدِيمَةُ مِنْ هَوَى وَاللَّهُ كَهْفِي مُهْلِكُ الْأَعْدَاءِ یہ حرص و ہوا کی وجہ سے تیرا پرانا ارادہ ہے اور اللہ میری پناہ ہے جو دشمنوں کو ہلاک کرنے والا ہے۔إِنِّي لَشَرُّ النَّاسِ إِنْ لَّمْ يَأْتِنِى نَصْرٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ لِلاعْلَاءِ میں بدترین مخلوق ہوں گا اگر خدائے رحمان کی مدد مجھے غالب کرنے کے لئے نہ آئے۔مَا كَانَ ـانَ أَمْرٌ فِي يَدَيْكَ وَإِنَّهُ رَبِّ قَدِيرٌ حَافِظُ الضُّعَفَاءِ ہے۔تیرے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں اور خدا کی یہ شان ہے کہ وہ رب قدیر اور کمزوروں کا محافظ الْكِبْرُ قَدْ الْقَاكَ فِي دَرُكِ اللَّظى إِنَّ التَّكَبُرَ أَرْدَءُ الأَشْيَاءِ تکبر نے تجھے دوزخ کے نچلے طبقہ میں ڈال دیا ہے۔یقینا تکبر ہر ایک چیز سے بدتر ہے۔خَفْ قَهُرَ رَبِّ ذِي الْجَلَالِ إِلى مَتَى تَقْفُرُ هَوَاكَ وَتَنُزُونُ كَظِبَاءِ خدائے ذوالجلال کے قہر سے ڈر۔کب تک تو اپنی خواہش کی پیروی کرے گا اور ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھرتا رہے گا۔تَبْغِى زَوَالِى وَالْمُهَيْمِنُ حَافِظِي عَادَيْتَ رَبَّا قَادِرًا بِمِرَائِي تو میراز وال چاہتا ہے جب کہ خدائے نگہبان میرا محافظ ہے مجھ سے جھگڑا کرنے میں تو نے رب قدیر کی دشمنی مول لے لی۔إِنَّ الْمُقَرَّبَ لَا يُضَاعُ بِفِتْنَةٍ وَالْأَجُرُ يُكْتَبُ عِنْدَ كُلِّ بَلَاءِ (خدا کا) مقرب کسی فتنے سے ضائع نہیں ہوتا۔ہر مصیبت کے وقت اس کا اجر لکھا جاتا ہے۔مَاخَابَ مَنْ خَافَ الْمُهَيْمِنَ رَبَّهُ إِنَّ الْمُهَيْمِنَ طَالِبُ الطُلَبَاءِ جو اپنے ربّ تمھیمن سے ڈرے وہ نامراد نہیں ہوتا کیونکہ یقیناً نگران خدا تو اپنے طالبوں کا طالب ہے۔هَلْ تَطْمَعُ الدُّنْيَا مَذَلَّةَ صَادِقٍ هَيْئَاتَ ذَاكَ تَخَيُّلُ السُّفَهَاءِ کیا دنیا صادق کی ذلت کی طمع رکھتی ہے؟ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔یہ تو بے وقوفوں کا خیال ہے۔