الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 221
ضميمه حقيقة الوحى ۲۲۱ الاستفتاء انيسْتَ كَيْفَ حَمَا الْقَدِيرُ كَلِيمَهُ اَوَمَا سَمِعْتَ مَالَ شَمْسِ حِرَاءِ کیا تو بھول گیا ہے کہ کس طرح قادر خدا نے اپنے کلیم موسیٰ کی حمایت کی۔ اور کیا تو نے غار حراء کے سورج کے انجام کو نہیں سنا۔ نَحْوَ السَّمَاءِ وَامْرِهَا لَا تَنْظُرَنُ فِي الْأَرْضِ دُمَّتُ عَيْنُكَ الْعَمْيَاءِ تیری نگاہ آسمان اور اس کے حکم کی طرف ہرگز نہیں جائے گی کیونکہ تیری نابینا آنکھ تو زمین میں دھنسی ہوئی ہے۔ غَرَّتُكَ أَقْوَالٌ بِغَيْرِ بَصِيرَةٍ سُتِرَتْ عَلَيْكَ حَقِيقَةُ الْأَنْبَاءِ تجھے عدم بصیرت کی وجہ سے بعض باتوں نے دھوکہ دیا ہے اور تجھ پر آئندہ کی خبروں کی حقیقت پوشیدہ ہو گئی ہے۔ أَدْخَلْتَ حِزْبَكَ فِي قَلِيبِ ضَلَالَةٍ أَفَهَذِهِ مِنْ سِيرَةِ الصَّلَحَاءِ تو نے اپنے گروہ کو ضلالت کے کنوئیں میں ڈال دیا ہے۔ کیا نیکوں کی سیرت ایسی ہی ہوتی ہے؟ جَاوَزْتَ بِالتَّكْفِيرِ مِنْ حَدّ التَّقَى اَشْفَقْتَ قَلْبِي أَوْ رَأَيْتَ خِفَائِي تو تکفیر کر کے تقویٰ کی حد سے تجاوز کر گیا ہے کیا تو نے میرا دل پھاڑ کر دیکھا ہے یا میرے اندرونے کو دیکھ لیا ہے؟ كَمِّلُ بِخُبُثِكَ كُلَّ كَيْدٍ تَقْصِدُ وَاللَّهُ يَكْفِي الْعَبُدَ لِلارْزَاءِ ہر مکر جو تو کرنا چاہتا ہے اپنی خباثت سے کمال تک پہنچادے۔ اور اپنے بندے کو پناہ دینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔ تَأْتِيكَ ايَاتِي فَتَعْرِفُ وَجْهَهَا فَاصْبِرُ وَلَا تَتْرُكُ طَرِيقَ حَيَاءِ میرے نشان تیرے پاس آئیں گے پس تو ان کی حقیقت کو پہچان لے گا۔ پس صبر کر اور حیا کا طریق نہ چھوڑ۔ إِنِّي كَتَبْتُ الْكُتُبَ مِثْلَ خَوَارِقٍ انْظُرُ عِنْدَكَ مَا يَصُوبُ كَمَائِي میں نے معجزات کے رنگ میں کتابیں لکھی ہیں۔ دیکھ کیا تیرے پاس ایسا پانی ہے جو میرے پانی کی طرح بر سے۔ إِنْ كُنْتَ تَقْدِرُ يَا خَصِيمِ كَقُدْرَتِي فَاكُتُبُ كَمِثْلِي قَاعِدًا بِحِذَائِي اے میرے مخاصم! اگر تو میری طرح قدرت رکھتا ہے تو میری طرح میرے سامنے بیٹھ کر لکھ۔ مَا كُنْتَ تَرْضَى أَنْ تُسَمَّى جَاهِلا فَالْآنَ كَيْفَ فَعَدْتَ كَاللَّكْنَاءِ ﴿۱۳﴾ تو تو جاہل کہلانے پر راضی نہ تھا سو اب تو ژولیدہ زبان عورت کی طرح کیسے بیٹھ گیا ہے۔ قَدْ قُلْتَ لِلسُّفَهَاءِ إِنَّ كِتَابَهُ عَفُصٌ يَهِيجُ الْقَاءَ مِنْ اِصْغَاءِ تو نے بیوقوفوں سے کہا کہ اس کی کتاب بدمزہ ہے جس کے سننے سے کئے آتی ہے۔