الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 217
ضميمه حقيقة الوحى ۲۱۷ الاستفتاء اللهُ كَهُفُ الْأَرْضِ وَالْخَضْرَاءِ رَبِّ رَّحِيمٌ مَّلْجَأُ الْأَشْيَاءِ اللہ ہی پناہ ہے زمین اور آسمان کی۔ وہ ربّ رحیم ہے اور سب چیزوں کی جائے پناہ۔ بَر عَطُوفٌ مَأْمَنُ الْغُرَمَاءِ ذُو رَحْمَةٍ و وَ تَبَرُّعٍ وَعَطَاءِ وہ حسنِ سلوک کرنے والا مہربان، مصیبت زدوں کے لئے جائے امن ہے ۔ وہ رحمت واحسان اور بخشش والا ہے۔ اَحَدٌ قَدِيمٌ قَائِمٌ بِوُجُودِهِ لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَلَا الشَّرَكَاءِ وہ یگانۂ قدیم اور بغیر سہارے کے بخود قائم دائم ہے۔ نہ اس نے کوئی بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی (اپنے) شریک ۔ وَلَهُ التَّفَرُّدُ فِي الْمَحَامِدِ كُلِّهَا وَلَهُ عَلَاءٌ فَوْقَ كُلِّ عَلَاءِ اور اسے تمام صفات میں یگانگت حاصل ہے اور اسے ہر بلندی سے بڑھ کر بلندی حاصل ہے۔ الْعَاقِلُونَ بِعَالَمِينَ يَرَوْنَهُ وَالْعَارِفُونَ بِهِ رَأَوا الأَشْيَاءِ عقلمند لوگ تو کائنات کے ذریعہ اسے دیکھتے ہیں اور عارفوں نے اس کے ذریعہ اشیاء کو دیکھا ہے۔ هَذَا هُوَ الْمَعْبُودُ حَقًّا لِّلوَرى فَرُدٌ وَحِيدٌ مَّبْدَءُ الْأَضْوَاءِ یہی مخلوقات کے لئے معبودِ برحق ہے وہ ایک یگانہ و یکتا ہے اور سب روشنیوں کا مبدا ہے۔ هَذَا هُوَ الْحِبُّ الَّذِى أَثَرُتُهُ رَبُّ الْوَرى عَيْنُ الْهُدَى مَوْلَائِي یہی وہ محبوب ہے جسے میں نے (سب پر ) ترجیح دی ہے۔ مخلوقات کا رب سر چشمہ ہدایت اور میرا مولا ہے۔ هَاجَتْ غَمَامَةُ حُبِّهِ فَكَأَنَّهَا رَكُبٌ عَلَى عُسْبُورَةِ الْحَدْوَاءِ اس کی محبت کا بادل اٹھا پس گویا وہ بادل باد شمالی کی تیز رو اونٹنی پر سواروں کی طرح ہے۔ نَدْعُوهُ فِي وَقْتِ الْكُرُوبِ تَضَرُّعًا نَرْضَى بِهِ فِي شِدَّةٍ وَرَخَاءِ بے قراری کے وقت ہم اسے عاجزی سے پکارتے ہیں اور سختی اور نرمی میں اسی پر خوش ہیں۔ حَوْجَاءُ الْفَتِهِ أَثَارَتْ جُرَّتِى فَفَدَى جَنَانِي صَوْلَةَ الْحَوْجَاءِ اس کی الفت کے بگولے نے میری خاک اڑا دی۔ پس میرا دل اس بگولے پر فدا ہو گیا۔ أَعْطَى فَمَا بَقِيَتْ اَمَانِي بَعْدَهُ غَمَرَتْ آيَادِي الْفَيْضِ وَجْهَ رَجَائِي اس نے مجھے اتنا دیا کہ اس کے بعد کوئی آرزو باقی نہ رہی۔ اس کے فیض کے احسانات ( کی کثرت ) میری امید کی انتہائی بلندی پر بھی چھا گئی۔ حوجاء سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۔ درست ھو جاء ہے۔ من الرحمن روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۷۰ میں یہی شعر ها سے لکھا گیا ہے۔ (ناشر) ۸۹