الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 217

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۱۷ الاستفتاء اللَّهُ كَهُفُ الْأَرْضِ وَالْحَضْرَاءِ رَبِّ رَّحِيمٌ مَّلْجَأَ الْأَشْيَاءِ اللہ ہی پناہ ہے زمین اور آسمان کی۔وہ رب رحیم ہے اور سب چیزوں کی جائے پناہ۔بَر عَطُوفٌ مَأْمَنُ الْعُرَمَاءِ ذُو رَحْمَةٍ وَّ تَبَرُّعٍ وَعَطَاءِ (۸۹) وہ حسن سلوک کرنے والا مہربان، مصیبت زدوں کے لئے جائے امن ہے۔وہ رحمت و احسان اور بخشش والا ہے۔اَحَدٌ قَدِيمٌ قَائِمٌ بِوُجُودِهِ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَا الشَّرَكَاءِ وہ یگانہ قدیم اور بغیر سہارے کے بخود قائم دائم ہے۔نہ اس نے کوئی بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی (اپنے) شریک۔وَلَهُ التَّفَرُّدُ فِي الْمَحَامِدِ كُلِّهَا وَلَهُ عَلَاءٌ فَوْقَ كُلَّ عَلَاءِ اور اسے تمام صفات میں یگانگت حاصل ہے اور اسے ہر بلندی سے بڑھ کر بلندی حاصل ہے۔الْعَاقِلُونَ بِعَالَمِيْنَ يَرَوْنَهُ وَالْعَارِفُوْنَ بِهِ رَأَوا الأَشْيَاءِ عظمند لوگ تو کائنات کے ذریعہ اسے دیکھتے ہیں اور عارفوں نے اس کے ذریعہ اشیاء کو دیکھا ہے۔هذَا هُوَ الْمَعْبُوُدُ حَقًّا لِّلُوَرى فَرُدْ رَّحِيدٌ مَّبْدَءُ الأَضْوَاءِ یہی مخلوقات کے لئے معبودِ برحق ہے وہ ایک یگانہ و یکتا ہے اور سب روشنیوں کا مبداً ہے۔هذَا هُوَ الحِبُّ الَّذِى اثَرُتُهُ رَبُّ الْوَرَى عَيْنُ الْهُدَى مَوْلَائِي یہی وہ محبوب ہے جسے میں نے (سب پر) ترجیح دی ہے۔مخلوقات کا رب سر چشمہ ہدایت اور میرا مولا ہے۔هَاجَتْ غَمَامَةُ حُبِّهِ فَكَأَنَّهَا رَكْبٌ عَلَى عُسُبُورَةِ الْحَدْوَاءِ اس کی محبت کا بادل اٹھا پس گویا وہ بادل باد شمالی کی تیز رو اونٹنی پر سواروں کی طرح ہے۔نَدْعُوهُ فِي وَقْتِ الْكُرُوبِ تَضَرُّعًا نَرْضَى بِهِ فِي شِدَّةٍ وَرَخَاءِ بے قراری کے وقت ہم اسے عاجزی سے پکارتے ہیں اور سختی اور نرمی میں اسی پر خوش ہیں۔حَوْجَاءُ الْفَتِهِ أَثَارَتْ جُرَّتِى فَفَدَى جَنَانِى صَوْلَةَ الْحَوْجَاءِ اس کی الفت کے بگولے نے میری خاک اڑا دی۔پس میرا دل اس بگولے پر فدا ہو گیا۔أعطى فَمَا بَقِيَتْ أَمَانِى بَعْدَهُ غَمَرَتْ آيَادِي الْفَيْضِ وَجُهَ رَجَائِي اس نے مجھے اتنا دیا کہ اس کے بعد کوئی آرزو باقی نہ رہی۔اس کے فیض کے احسانات ( کی کثرت ) میری امید کی انتہائی بلندی پر بھی چھا گئی۔كلا حوجاء سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔درست ھو جاء ہے۔من الرحمن روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۱۷۰ میں یہی شعرھا سے لکھا گیا ہے۔(ناشر)