الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 19
ضميمه حقيقة الوحي ۱۹ الاستفتاء والذين ما تابوا وما استغفروا و ما اور جن لوگوں نے نہ تو توبہ کی اور نہ استغفار کیا اور أداهم إلى هذا العبد تقوی نہ ہی ان کے دلوں کا تقویٰ اور علاقوں پر نازل القلوب وخيفة ما نزل على ہونے والے مصائب کا خوف انہیں اس بندہ تک البلدان، وعلوا علوا كبيرا، لے آیا اور انہوں نے بہت بڑی سرکشی کی اور وتمايلوا على دنیا هم نشہ بازوں کی ط بازوں کی طرح دنیا پر جھکے رہے۔ یہی لوگ کثیر كالسكران، أولئك يذوقون المنايا الكثيرة بما كانوا يعتدون في العصيان۔ تسقط السماء على موتوں کا مزا چکھیں گے کیونکہ وہ عصیان میں حد سے گزر گئے ۔ آسمان ان کے سروں پر گرے رؤوسهم، وتنشق الأرض تحت گا۔ اور زمین ان کے قدموں کے نیچے سے پھٹ أقدامهم، وترى كل نفس جزاء ها، جائے گی۔ اور ہر شخص اپنی جزا لے گا۔ اس وقت هناك يتم ما وعد الله الديان۔ جزا سزا کے مالک اللہ کا وعدہ پورا ہوگا۔ و آية له أن الله بشره بأنّ اور اس کے لئے ایک نشان یہ بھی ہے کہ اللہ نے اسے الطاعون لا يدخل داره، وأن يه بشارت دی ہے کہ طاعون اس کے گھر میں داخل نہ ہوگی اور زلزلے اسے اور اس کے انصار کو ہلاک نہیں الزلازل لا تهلكه وأنصاره، ويدفع الله عن بيته شرهما، ولا يخرج سهمهما عن الكنانة ولا کرینگے۔ اور اللہ اس کے گھر سے ان دونوں کے شرکو دور رکھے گا۔ اور وہ ان دونوں کے تیر ترکش سے نہیں نکالے گا۔ اور نہ چلائے گا۔ اور نہ ہی ان کو پر لگائے گا یرمی، ولا يريش ولا يبرى اور نہ ہی تراشے گا۔ پھر اللہ رب العالمین کے فضل سے وكذالك وقع بفضل الله ربّ ایسا ہی وقوع پذیر ہوا اور یہ بندہ اور اس کے ساتھی اس العالمين۔ وإن هذا العبد ومن معه کی رحمت کے طفیل امن سے زندگی گزار رہے ہیں۔ يعيشون برحمته آمنين، لا يسمعون اور ان زلزلوں اور طاعون کی آہٹ تک نہیں سنتے ۔ اور حسيسه وحفظوا من فزع وأنين وہ گھبراہٹ اور چیخ و پکار سے محفوظ رکھے گئے ہیں۔