الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 19

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۹ الاستفتاء والذين ما تابوا وما استغفروا وما اور جن لوگوں نے نہ تو توبہ کی اور نہ استغفار کیا اور أداهم إلى هذا العبد تقوی نہ ہی ان کے دلوں کا تقویٰ اور علاقوں پر نازل الـقـلـوب وخيفه ما نزل علی ہونے والے مصائب کا خوف انہیں اس بندہ تک البلدان، وعلوا علوا كبيرا، لے آیا اور انہوں نے بہت بڑی سرکشی کی اور وتــمــایـلـوا عـلـی دنیـاهـم نشہ بازوں کی طرح دنیا پر جھکے رہے یہی لوگ کثیر كالسكران، أولئك يذوقون موتوں کا مزا چکھیں گے کیونکہ وہ عصیان میں المنايا الكثيرة بما كانوا يعتدون حد سے گزر گئے۔آسمان ان کے سروں پر گرے في العصيان۔تسقط السماء على رؤوسهم، وتنشق الأرض تحت گا۔اور زمین ان کے قدموں کے نیچے سے پھٹ أقدامهم، وترى كل نفس جزاء ها، جائے گی۔اور ہر شخص اپنی جزا لے گا۔اس وقت هناك يتم ما وعد الله الديان۔جزا سزا کے مالک اللہ کا وعدہ پورا ہوگا۔وآية له أن الله بشره بأن اور اس کے لئے ایک نشان یہ بھی ہے کہ اللہ نے اسے الطاعون لا يدخل داره، وأن یہ بشارت دی ہے کہ طاعون اس کے گھر میں داخل نہ ہوگی اور زلزلے اسے اور اس کے انصار کو ہلاک نہیں الزلازل لا تهلكه وأنصاره، کرینگے۔اور اللہ اس کے گھر سے ان دونوں کے شر کو دور رکھے گا۔اور وہ ان دونوں کے تیر ترکش سے نہیں ويدفع الله عن بيته شرهما، ولا يخرج سهمهما عن الكنانة ولا نکالے گا۔اور نہ چلائے گا۔اور نہ ہی ان کو پر لگائے گا يرمى، ولا يريش ولا يبرى اور نہ ہی تراشے گا۔پھر اللہ رب العالمین کے فضل سے وکذالک وقع بفضل الله ربّ ایسا ہی وقوع پذیر ہوا اور یہ بندہ اور اس کے ساتھی اس العالمين۔وإن هذا العبد ومن معه كى رحمت کے طفیل امن سے زندگی گزار رہے ہیں۔کی يعيشون برحمته آمنین، لا يسمعون اور ان زلزلوں اور طاعون کی آہٹ تک نہیں سنتے۔اور حسيسه وحفظوا من فزع وأنين وہ گھبراہٹ اور شیخ وپکار سے محفوظ رکھے گئے ہیں۔