الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 212

ضمیمه حقيقة الوحي ۲۱۲ الاستفتاء انا نرث الارض ناكلها من ہم زمین کے وارث ہوں گے اور اطراف سے اس اطرافها - نقلوا الى المقابر کو کھاتے آئیں گے۔کئی لوگ قبروں کی طرف نقل کریں گے۔ظفر من الله وفتح مبین۔اُس دن خدا کی طرف سے کھلی کھلی فتح ہوگی۔ان ربی قوی قدیر۔میرارب زبر دست قدرت والا ہے۔انه قوی عزیز۔حلّ غضبه علی اور وہ قوی اور غالب ہے۔اُس کا غضب زمین پر الارض۔نازل ہوگا۔انی صادق انی صادق و سیشھد میں صادق ہوں میں صادق ہوں اور خدا میری گواہی دے گا۔الله لی۔(ترجمة الهندي): اتنا يا ربنا الأزلي (اردو الهام ) اے ازلی ابدی خدا بیریوں کو پکڑ کے آ۔الأبدى آخذا للسلاسل ضاقت الارض بما رحبت۔زمین باوجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہو گئی ہے، رب اني مغلوب فانتصر اے میرے خدا میں مغلوب ہوں میرا انتقام دشمنوں سے لے۔پس اُن کو پیس ڈال۔فسحقهم تسحيقا۔(ترجمة الهندى قوم بعدوا من (اردو الہام) زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے طريق الحياة الإنسانية۔ہیں۔انما امرک اذا اردت شيئًا ان تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے تقول له كن فيكون ☆ فی الفور ہو جاتی ہے۔(ترجمة الهندى ) : لما كنتَ تدخل اے میرے بندے چونکہ تو میری فرودگاہ میں في منزلي مرّة بعد مرّة، فانظر بار بار آتا ہے اس لئے اب تو خود دیکھ لے کہ هل مطر سحاب الرحمة أو لا - تیرے پر رحمت کی بارش ہوئی یا نہ۔دیکھئے تذکرہ صفحہ ۵۶۰،۳۸۲ دیکھئے تذکرہ صفحہ ۵۶۰،۴۲۶ حمد اصل الہام فارسی میں ہے۔کاتب سے سہؤا اردو لکھا گیا ہے۔الہام کے الفاظ یہ ہیں ” تو در منزل ما چو بار بار آئی خدا ابر رحمت بیارید بانے (دیکھئے تذکرہ صفحہ ۵۶۰ ایڈیشن جهارم مطبوعه ۲۰۰۴ء)