الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 211
ضمیمه حقيقة الوحي ۲۱۱ الاستفتاء جاء نی ایل واختار۔میرے پاس آیں آیا اور اس نے مجھے چن لیا۔اور وادار اصبعه و اشار۔ان وعد الله اپنی انگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ اتی۔فطوبى لمن وجد و رأى۔آگیا۔پس مبارک وہ جو اُس کو پاوے اور دیکھے۔الامراض تشاع والنفوس تضاع طرح طرح کی بیماریاں پھیلائی جائیں گی اور کئی آفتوں سے جانوں کا نقصان ہوگا۔انى مع الرسول اقوم وافطر میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔میں افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا اور ایک وقت واصوم ولن ابرح الارض الى الوقت مقرر تک میں اس زمین سے علیحدہ نہیں ہوں گا۔المعلوم۔واجعل لك انوار القدوم اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطا کروں گا۔واقصدک واروم۔و اعطيك ما يدوم۔اور تیری طرف قصد کروں گا۔اور وہ چیز تجھے دوں گا جو تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔المراد من الآيل جبرئيل عليه ایل سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔اور میرے السلام، وكذالک فهمنی ربّي، ولما رب نے مجھے اس کی ایسے ہی تفہیم فرمائی۔جب اول كان الأول والإياب من صفات ایاب ( بار بار لوٹ کر آنا ) جبریل علیہ السلام کی صفات جبرئيل عليه السلام فلذالک سمی میں سے ہے تو کلام الہی میں اسے آیل کے نام سے موسوم بالآيل في كلام الله تعالى۔منه کیا گیا۔منہ فيه إشارة إلى عذاب الطاعون إلى حل اس میں طاعون کے عذاب کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وقت، ثم تأخيره إلى وقت كأن الله اپنے ایک وقت تک ظاہر ہو گا پھر اس میں کچھ وقت کے لئے تاخیر ہوگی۔اس طرح گویا اللہ روزہ افطار بھی کرتا ہے يُفطر ويصوم۔منه اور روزہ رکھتا بھی ہے۔منہ