الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 18
ضميمه حقيقة الوحي ۱۸ الاستفتاء ی وعـايـنـتـم كيف صال الطاعون اور تم نے دیکھ لیا کہ طاعون نے اس ملک پر کیسا على هذه البلاد، وشاهدتم كيف حملہ کیا اور تم نے مشاہدہ کیا کہ لوگوں میں کس کثرت كثر المنايا في العباد، وإلى هذا سے اموات ہوئیں۔ اور اس وقت تک طاعون الوقت يصول كما يصول وحشی جانوروں کی طرح حملہ کر رہی ہے۔ اور ہر روز الوحوش، ويجول كل يوم چکر لگا کر ( لوگوں کو ) گرفت میں لیتی ہے، اور وينوش، وفي كل سنة يرى هر سال گزشتہ سال کی نسبت طاعون اپنی صورت صورته أوحش من سنة أولى، ثم زیادہ وحشتناک دکھائی دیتی ہے۔ پھر اس کے پیچھے وقعت على آثاره الزلازل بڑے بڑے زلزلے وقوع پذیر ہوئے اور یہ تمام العظمى۔ وتلك الأنباء كلها پیشگوئیاں اپنے ظہور سے پہلے دور دراز علاقوں أُشيعت قبل ظهورها إلى البلاد میں شائع کر دی گئی تھیں۔ اس میں یقیناً ہر دیکھنے القصوى۔ إن في ذالك لآية لمن والے کے لئے بڑا نشان ہے۔ اور اللہ نے اسے يرى۔ وأخبره الله بزلزلة أُخرى ایک اور زلزلے کی خبر دی ہے جو قیامت کبری کا وهي كالقيامة الكبرى، فلا نعلم نمونہ ہوگا۔ اور ہم نہیں جانتے کہ اس کے بعد اللہ ما يظهر الله بعدها، إن فی کیا ظاہر فرمائے گا۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے ذالك لمقام خوف لأولى لئے مقام خوف ہے۔ پس اے جوانو! صاف النهي۔ فبينوا توجروا يا فتيان صاف بیان کرو تمہیں اجر دیا جائے گا۔ کیا یہ اللہ کا أهذا فعل الله أو تقول الإنسان؟ فعل ہے یا کسی انسان کا خود ساختہ کلام؟ وإن الله قدر المنايا والعطايا اور یقیناً اللہ نے اس زمانے کے لئے موتیں لهذا الزمان۔ فالذين آمنوا ولم اور انعامات مقدر کر رکھے ہیں ۔ پس جو لوگ يلبسوا إيمانهم بظلم أولئك ایمان لائے اور ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں سيعطون من عطايا الرحمن ملایا انہیں رحمان خدا کی عنایات دی جائیں گی