الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 17

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۷ الاستفتاء و انهدمت مقاصرهم التي كانوا اور ان کے وہ محلات منہدم ہو گئے جن میں اتر نے يتنافسون في نزولها، ويتغایرون کیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور ان میں في حلولها۔وما انقطعت سلسلة ٹھہر نے پر غیرت کا اظہار کرتے تھے۔اور زلزلوں کا الزلازل وما ختمت، بل التي يہ سلسلہ نہ منقطع ہوا، نہ ختم ہوا بلکہ جس زلزلہ کے يُنتظر وقوعها هي أشدّ مما وقوع پذیر ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے وہ گزشتہ وقعت۔إنّ في ذالك لتبصرة زلازل سے شدید ہوگا، اس میں متقی قوم کے لئے ایک لقوم يتقون۔فبينوا توجروا أيها المقسطون۔۔أهذه آيات الله أو من أمور تنحتها المفتعلون؟ إنما راہنمائی ہے۔پس اے منصفو ! صاف صاف بیان کرو تا تم اجر دئے جاؤ۔کیا یہ اللہ کے نشانات ہیں یا ایسے امور میں سے ہیں جنہیں جعل ساز گھڑتے المؤمنون رجال إذا نطقوا ہیں۔مومن وہ مرد ہوتے ہیں کہ جب وہ بولتے ہیں صدقوا، وإذا حكموا عدلوا ولا تو سچ کہتے ہیں اور جب انہیں حاکم بنایا جاتا ہے تو يظلمون والذين يخافون الخلق كخوف الله ويُخفون الحق كأن عدل کرتے ہیں اور ظلم نہیں کرتے لیکن وہ لوگ جو الحق تجدع آنافهم، أو هم مخلوق سے ایسا ڈرتے ہیں جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے يُسجـنـون۔۔أولئك إناث في اور حق کو چھپاتے ہیں گو یا حق ان کی ناک کاٹ رہا حلل الرجال، وكَفَرة في حلل ہے یا انہیں قید کیا جارہا ہے۔یہ مردوں کے لباس میں عورتیں اور مومنوں کے لبادہ میں کافر ہیں۔ومنها أن الله أخبر هذا العبد اور ان نشانوں میں سے ایک نشان یہ بھی ہے کہ الطاعون في هذه الله نے اس بندہ کو نہ صرف اس ملک میں بلکہ تمام الديار، بل في جميع الأعطاف اطراف و جوانب میں طاعون ظاہر ہونے کی خبر دی اور والأقطار، وقال: الأمراض تشاع فرمایا : ”بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہونگی۔" والنفوس تضاع ، فرأيتم افتراس پس تم نے دیکھ لیا کہ طاعون نے اس طرح چیر پھاڑ کر الطاعون كما تفترس السباع رکھ دیا ہے جس طرح درندے چیر پھاڑ کرتے ہیں۔الذين هم يؤمنون۔بظهور