الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 17
ضميمه حقيقة الوحي ۱۷ الاستفتاء و انهدمت مقاصرهم التي كانوا اور ان کے وہ محلات منہدم ہو گئے جن میں اترنے يتنافسون في نزولها، ويتغایرون کیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور ان میں في حلولها ۔ وما انقطعت سلسلة ٹھہرنے پر غیرت کا اظہار کرتے تھے۔ اور زلزلوں کا الزلازل وما ختمت، بل التي به سلسله نہ منقطع ہوا، نہ ختم ہوا بلکہ جس زلزلہ کے ينتظر وقوعها هي أشد مما وقوع پذیر ہونے کا انتظار کیا جا رہا ہے وہ گزشتہ وقعت۔ إن في ذالك لتبصرة زلازل سے شدید ہوگا، اس میں متر میں متقی قوم کے لئے ایک لقوم يتقون۔ فبينوا توجروا أيها راہنمائی ہے۔ پس اے اے منصفو ! صاف صاف بیان المقسطون ۔۔ أهذه آيات الله أو کرو تا تم اجر دئے جاؤ۔ کیا یہ اللہ کے نشانات ہیں من أمور تنحتها المفتعلون؟ إنما یا ایسے امور میں سے ہیں جنہیں جعل ساز گھڑتے المؤمنون رجال إذا نطقوا ہیں۔ مومن وہ مرد ہوتے ہیں کہ جب وہ بولتے ہیں صدقوا، وإذا حكموا عدلوا ولا تو سچ کہتے ہیں اور جب انہیں حاکم بنایا جاتا ہے تو يظلمون۔ والذين يخافون الخلق كخوف الله ويُخفون الحق كأنّ عدل کرتے ہیں اور تے ہیں اور ظلم نہیں کرتے لیکن وہ لوگ جو الحق تجدع آنــافهم، أو هم مخلوق سے ایسا ڈرتے ہیں جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے يُسجنون۔۔ أولئك إناث في اور حق کو چھپاتے ہیں گو یا حق ان کی ناک کاٹ رہا حلل الرجال، وكَفَرة في حلل ہے یا انہیں قید کیا جارہا ہے۔ یہ مردوں کے لباس میں الذين هم يؤمنون۔ عورتیں اور مومنوں کے لبادہ میں کافر ہیں۔ ومنها أن الله أخبر هذا العبد اور ان نشانوں میں سے ایک نشان یہ بھی ہے کہ بظهور الطاعون في هذه اللہ نے اس بندہ کو نہ صرف اس ملک میں بلکہ تمام الديار، بل في جميع الأعطاف اطراف و جوانب میں طاعون ظاہر ہونے کی خبر دی اور والأقطار، وقال: الأمراض تشاع فرمایا : ” بیماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہونگی ۔“ 66 والنفوس تضاع ، فرأيتم افتراس پس تم نے دیکھ لیا کہ طاعون نے اس طرح چیر پھاڑ کر الطاعون كما تفترس السباع رکھ دیا ہے جس طرح درندے چیر پھاڑ کرتے ہیں۔