الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 196
ضميمه حقيقة الوحى ۱۹۶ الاستفتاء انت منی بمنزلة لا يعلمها تو مجھ سے بمنزلہ اس انتہائی قرب کے ہے جس کو الخلق۔ دنیا نہیں جان سکتی ۔ ۸۳) نحن اولياء كم في الحيوة الدُّنيا ہم تمہارے متولی اور متکفل دنیا اور آخرت میں ہیں۔ والآخرة ۔ اذا غضبت غضبت ۔ جس پر تو غضبناک ہو میں غضبناک ہوتا ہوں۔ وكُلَّمَا أَحْبَبْتَ اَحْبَبْتُ ۔ اور جن سے تو محبت کرے میں بھی محبت کرتا ہوں ۔ من عادى وليا لي فقد أذنته اور جو شخص میرے ولی سے دشمنی رکھے میں لڑنے للحرب۔ کے لئے اُس کو متنبہ کرتا ہوں ۔ اني مع الرسول أقوم - وألوم میں اِس رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔ اور اُس من يلوم - شخص کو ملامت کروں گا جو اُس کو ملامت کرے۔ وأعطيك ما يدوم - اور تجھے وہ چیز دوں گا جو ہمیشہ رہے گی ۔ يأتيك الفرج - سلام علی کشائش تجھے ملے گی۔ اس ابراہیم پر سلام کی ابراهیم ☆ صافيناه ونجيناه من الغم - ہم نے اس سے صاف دوستی کی اور غم سے نجات دی۔ تفردنا بذالك۔ فاتخذوا من ہم اس امر میں اکیلے ہیں ۔ سوتم اس ابراہیم کے مقام ابراهيم مصلی۔ مقام سے عبادت کی جگہ بناؤ یعنی اس نمونہ پر چلو ۔ سماني ربي إبراهيم، وكذالک میرے رب نے میرا نام ابراہیم رکھا۔ اسی طرح آدم سماني بجميع أسماء الأنبياء من آدم سے لے کر حضرت خا ر حضرت خاتم المرسلین اور خیر الاصفیاء (محمد) إلى خاتم الرسل وخير الأصفياء ، تک جتنے بھی نبی ہیں ان سب کے نام مجھے دیئے گئے ۔ اس وقد ذكـرتـه فـي كتابي "البراهين"، کا ذکر میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں کیا ہوا ہے۔ فليرجع إليه من كان من الطالبين۔ منه طالب حق کو چاہئے کہ وہ اُس کی طرف رجوع کرے۔ منہ