الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 195
ضميمه حقيقة الوحي ۱۹۵ الاستفتاء إني سأرى بريقي، وأرفعك من میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے قدرتی۔ تجھ کو اُٹھاؤں گا۔ جاء نذير في الدنيا، فأنكروه دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا أهلها وما قبلوه، ولكن الله يقبله، لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور ويُظهر صدقه بصول قوی شدید حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔ صول بعد صول۔ انت منى بمنزلة توحيدي و تفریدی۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔ فحان ان تُعان وتُعرف بین الناس ۔ پس وہ وقت آتا ہے کہ تو مدد دیا جائے گا اور دنیا میں مشہور کیا جائے گا۔ انت منى بمنزلة عرشى۔ تو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔ انت منى بمنزلة ولدى ☆ تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے کیا میں سبحان الله وتعالى مما أن خدا تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اس کا کوئی يكون له ولد، ولكن هذا استعارة بیٹا ہولیکن یہ بطور استعارہ ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد كمثل قوله تعالى : فَاذْكُرُوا اللهَ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ ( تم اللہ کو ویسے كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ والاستعارات ہی ہی یاد یاد کرو کرو جیسے جید تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو ) قرآن : كثيرة في القرآن، ولا اعتراض عليها بکثرت استعارے ہیں ۔ اہل علم و عرفان کے نزدیک ان عند أهل العلم والعرفان۔ فهذا القول پر کوئی اعتراض نہیں۔ لہذا یہ قول کوئی نامانوس قول نہیں ہے ليــس بـقـول مـنـگـر، وتجد نظائرہ فی اور تو ایسے استعارات کی مثالیں الہی کتابوں اور ان الكتب الإلهية وأقوال قومٍ رُوحانیین روحانی لوگوں کے اقوال میں پائے گا جنہیں صوفیاء يُسمون بالصوفية، فلا تعجلوا علينا يا کہا جاتا ہے۔ سواے اہل دانش ! ہمارے بارے میں أهل الفطنة۔ منه البقرة : ٢٠١ اصل الہام اردو میں ہے۔ جلدی نہ کرو ۔ منه