الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 195

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۹۵ الاستفتاء إني سأرى بريقي، و أرفعک من میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔اپنی قدرت نمائی سے قدرتی۔تجھ کو اُٹھاؤں گا۔جاء نذير في الدنيا، فأنكروه دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا أهلها وما قبلوه، ولكن الله يقبله، لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور ويُظهر صدقه بصول قوى شديد حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔صول بعد صول انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدی۔تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔فحان ان تُعان وتُعرف بين الناس - پس وہ وقت آتا ہے کہ تو مدددیا جائے گا اور دنیا میں مشہور کیا جائے گا۔لله انت متى بمنزلة عرشى۔تُو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔انت منى بمنزلة ولدى تو مجھ سے بمنزلہ میرے فرزند کے ہے کہ سبحان الله وتعالى مما أن لا خدا تعالیٰ اس بات سے پاک ہے کہ اس کا کوئی يكون له ولد، ولكن هذا استعارة بیٹا ہو لیکن یہ بطور استعارہ ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد كمثل قوله تعالى : فَاذْكُرُوا اللهَ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ ( تم اللہ کو ویسے كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُم والاستعارات ہی یاد کرو جیسے تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو ) قرآن میں كثيرة في القرآن، ولا اعتراض عليها بکثرت استعارے ہیں۔اہل علم و عرفان کے نزدیک ان عند أهل العلم والعرفان فهذا القول پر کوئی اعتراض نہیں۔لہذا یہ قول کوئی نامانوس قول نہیں ہے ليــس بـقــول مـنـگـر، وتجد نظائرہ فی اور تُو ایسے استعارات کی مثالیں الہی کتابوں اور ان الكتب الإلهية وأقوال قوم رُوحانیین روحانی لوگوں کے اقوال میں پائے گا جنہیں صوفیاء يُسمون بالصوفية، فلا تعجلوا علینا یا کہا جاتا ہے۔سو اے اہل دانش! ہمارے بارے میں أهل الفطنة۔منه جلدی نہ کرو۔منہ ل البقرة : ٢٠١ اصل الہام اردو میں ہے۔