الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 194
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۹۴ الاستفتاء اليس الله بکاف عبده - کیا خدا اپنے بندو کے لئے کافی نہیں ہے۔ولنجعله اية للناس ورحمة منا۔اور ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشان اور ایک وكان امرًا مقضيّا۔نمونہ رحمت بنائیں گے ، اور یہ ابتدا سے مقدر تھا۔قول الحق الذي فيه تمترون یہ وہی امر ہے جس میں تم شک کرتے تھے۔سلام علیک، جعلت مبارگا۔تیرے پر سلام، تو مبارک کیا گیا۔انت مبارك في الدنيا والآخرة تو دنیا اور آخرت میں مبارک ہے۔امراض الناس وبركاته - تیرے ذریعہ سے (روحانی اور جسمانی ) مریضوں پر برکت نازل ہوگی۔تَبَخْتَرُ فإن وقتك قد أتى، وإن خوش خوش چل کہ تیرا وقت نزدیک آ پہنچا ہے اور قدم المحمديين وَقَعَتْ على المنارة محمدی گروہ کا پاؤں ایک بہت اونچے مینار پر مضبوطی العليا - إن محمدًا سيّد الأنبياء ، سے قائم ہو گیا ہے کیا پاک محمد مصطفے نبیوں کا مطهر مصطفى۔إنّ الله يصلح كلّ سردار۔خدا تیرے سب کام درست کر دے گا۔أمرک، ویعطیک کلّ مراداتک۔اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ربُّ الأفواج يتوجه إليك رَبُّ الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔اس نشان کا کذالک یرى الآيات ليُثبت أن مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور القرآن كتاب الله وكلمات میرے منہ کی باتیں ہیں۔خرجت من فوهی یا عیسی انی متوفیک و رافعک اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا اور تجھے اپنی التي وجاعل الذين اتبعوک فوق طرف اُٹھاؤں گا اور میں تیرے تابعین کو تیرے الذين كفروا الى يوم القيامة منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ثلة من الاولين وثلة من الأخرين ان میں سے ایک پہلا گروہ ہوا اور ایک پچھلا۔حمد اصل الہام فارسی زبان میں ہے۔” بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد