الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 192

ضمیمه حقيقة الوحي الفتنة ههنا - ۱۹۲ اس جگہ ایک فتنہ برپا ہوگا۔الاستفتاء فاصبر كما صبر اولو العزم - پس صبر کر جیسا کہ اولوالعزم نبیوں نے صبر کیا۔الا انها فتنة من الله - ليحب حبًّا وہ فتنہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگا۔تا وہ تجھ سے جما - حُبًّا من الله العزيز الاكْرَم - محبت کرے۔وہ اس خدا کی محبت ہے جو بہت غالب اور بزرگ ہے۔شاتان تذبحان - وكل من عليها دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔اور ہر ایک جو فان ـ ولا تهنوا ولا تحزنوا - زمین پر ہے آخر وہ فنا ہوگا۔تم کچھ غم مت کرو اور اند وہ گین مت ہو۔اليس الله بکاف عبده - کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔الم تعلم ان الله على كُلّ شيءٍ قدیر - کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔وان يتخذونك الا هزوا - اور تجھے انہوں نے ٹھیٹھے کی جگہ بنارکھا ہے۔أهذا الذي بعث الله - وہ ہنسی کی راہ سے کہتے ہیں کیا یہی ہے جس کو خدا نے مبعوث فرمایا ؟ قل انما انا بشر مثلکم یوحی ان کو کہہ کہ میں تو ایک انسان ہوں۔میری طرف یہ الى انما الهكم إله واحد جی ہوئی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے۔اور تمام بھلائی والخير كله في القرآن - لا يمسه اور نیکی قرآن میں ہے کسی دوسری کتاب میں نہیں اس کے اسرار تک وہی پہنچتے ہیں جو پاک دل ہیں۔قل ان هدى الله هو الهدى - کہہ ہدایت دراصل خدا کی ہدایت ہی ہے۔وقالوا لولا نزل على رجل من اور کہیں گے کہ یہ وحی الہی کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوئی جو دو شہروں میں سے کسی ایک شہر کا الا المطهرون قریتین عظیم۔باشندہ ہے۔