الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 16
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۶ الاستفتاء يا فتيان، إن في ذالك لآية اے عزیز و یقیناً اس میں ہر اس شخص کے لئے نشان لمن كانت له عينان فبينوا ہے جس کی دو آنکھیں ہیں۔پس صاف صاف توجروا۔۔أهذا فعل الله أو تقول بيان كرو تا تم اجر پاؤ۔کیا یہ اللہ کا فعل ہے یا کسی انسان کی بناوٹی باتیں؟ الإنسان؟ ومنها أن الله أخبره بزلازل اور منجملہ ان نشانات کے ایک یہ بھی ہے کہ عظمى في الآفاق وفي هذه الديار اللہ نے اس کو دور دراز علاقوں اور اس ملک میں قبل ظهورها وقبل الآثار فسمعتم عظیم زلزلوں کی ان کے ظہور اور آثار سے بھی پہلے ما وقع في هذا الملك وفي خبر دی۔سو تم سن چکے ہو جو ( زلازل ) اس ملک اور الأقطار، وتعلمون کیف نزلتُ دنیا کے دوسرے حصوں میں وقوع پذیر ہوئے اور غياهب هذه الحوادث على نوع تم جانتے ہو کہ بنی نوع انسان پر ان حوادث کی الإنسان، حتى إن الشمس طلعت شدید تاریکیاں اس طرح نازل ہوئیں کہ سورج على العمران، وغربت وهي خاوية طلوع تو آبادیوں پر ہوالیکن غروب اس حالت میں على عروشها، وسقطت السقوف ہوا کہ وہ آبادیاں اپنی چھتوں کے بل گر چکی على السكان، ومُلئت البيوت من تھیں۔اور چھتیں اپنے مکینوں پر گری ہوئی تھیں الموتى والأشجان۔وانتقل اور گھر مُردوں اور غموں سے بھرے پڑے تھے اور المجالس من القصور إلى القبور، مجالس محلات سے قبروں میں منتقل ہوگئیں۔اور ومن المحافل إلى الطبق السافل، محفلیں زیر زمین چلی گئیں اور یہ بات ظاہر ہوگئی وظهر أن هذه الحياة ليست إلا که یه زندگی محض ایک فریب کی طرح ہے یا پھر كالزور، أو كحباب البحور سمندروں کے بلبلوں کی طرح۔اور جو ان میں والذين بقوا منهم كوى الجزع سے بچ گئے تو ان کے دلوں کو بے چینی نے داغ قلوبهم، وشقت الفجيعة جيوبهم، دیا اور صدمہ نے ان کے گریبان چاک کر دئیے