الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 178

ضميمه حقيقة الوحي ۱۷۸ الاستفتاء ثم طرحتهم النوى مطارحها، پھر سفر نے انہیں دور دراز علاقے میں لا پھینکا۔ اور وبسطت إليهم سيول السفر سفر کے سیل رواں نے اپنے جوارح ان تک پھیلا جوارحها، حتى إذا وطئوا أرض دیئے ۔ یہاں تک کہ جب ان کے قدم قادیان هذه البلدة التي تسمى بقادیان نامی اس بستی پر پڑے اور انہوں نے اس کو مبارک ورأوا هذه الخطّة المباركة، والتربة خطہ اور اس زمین کو اچھا پایا اور انہیں اس کی آب و ہوا الطيبة، سرتهم ريحها وماؤها، اور اس کے شاداب سبزہ زار اچھے لگے تو وسوادها وخضراؤها، فألقوا فيها انہوں نے یہیں اپنے ڈیرے ڈال دیئے ۔ اور وہ عصا السيار، وكانوا يرجحون دیہی علاقوں کو شہروں پر ترجیح دیتے تھے۔ اور اللہ البدو على الأمصار، ورزقوا فيها کی طرف سے انہیں جائیدادیں اور جاگیریں عطا من الله ضيعة وعقارًا، وملكوا قرّی کی گئیں ۔ اور وہ بستیوں اور شہروں کے مالک بن وأمصارا ۔ ثم إذا مضى زمان علی گئے ۔ پھر جب اس آسودہ حالی پر ایک زمانہ گزر هذه الحالة، ونزل قضاء الله وقدره گیا اور سلطنت مغلیہ پر اللہ کی قضا وقدر نازل على السلطنة المغليّة، أمرهم الله ہوئی تو اللہ نے ان ( میرے آباء ) کو علاقے کے في هذه الناحية، وانتهى الأمر إلى امراء بنا دیا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ وہ اس أنهم صاروا كملك مستقل فی خطہ ارض کے خود مختار بادشاہ کی طرح ہو گئے اور هذه الخطة، وكان في يدهم من كل ہر جہت سے عنان حکومت ان کے ہاتھ میں تھی ۔ نهج عنان الحكومة، وقضى الله اور اللہ نے اپنے فضل او را۔ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ان کی ہر وطرهم من الفضل والرحمة۔ وبعد خواہش کو پورا فرمایا۔ تازہ نعمت ، خوشحالی اور عزت ما زجوا زمانًا طويلا فی النعمة و شرف کی ایک لمبی زندگی گزارنے کے بعد اللہ والرفاهة، والشرف والنباهة، أخرج نے اپنی عمیق در عمیق مصلحتوں اور باریک در الله بمصالحه العميقة وحكمه باریک حکمتوں کے تحت ان پر ایک ایسی قوم الدقيقة قوما يقال له الخالصه مسلط کر دی جسے خالصہ (سکھ) کہا جاتا ہے۔