الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 15

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۵ الاستفتاء ليضل الذين لا يعلمون۔فما تا کہ وہ علم نہ رکھنے والوں کو گمراہ کرے۔تمہاری اس شخص رأيكم في هذا الرجل۔۔أنصره كے متعلق کیا رائے ہے۔کیا اللہ نے اس کے افتراء الله مع افترائه، أو هو من عند كے باوجود اس کی مدد کی ہے۔یا کہ وہ واقعی اللہ کی کے الله ومن الذين يصدقون؟ وهل طرف سے ہے اور وہ ان لوگوں میں سے ہے جو صادق ينجو المتحلمون الذين يقولون ہیں اور کیا جھوٹے خواب بین نجات پائیں گے جو کہتے أوحى إلينا وما أوحى إليهم ہیں کہ ہماری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ ان کو شيء، وإن هم إلَّا يكذبون؟ کچھ بھی وحی نہیں کی گئی اور وہ تو سراسر جھوٹ بولتے ہیں۔ثم أستفتيكم مرّةً ثالثة أيها پھر اے عالمو ! میں تم سے تیسری دفعہ فتویٰ مانگتا ! العالمون۔۔ان هذا الرجل الذى ہوں كہ يہ شخص جس کا تم نے ذکر نا اور ان احسانوں کا سمعتم ذكره وذكر ما من الله بھی ذکر سنا جو اللہ نے اس پر کئے۔اسے اللہ نے عليه۔۔قد أعطاه الله آیات ان کے علاوہ اور بھی کئی نشان عطا کئے تا کہ لوگ أخرى دون ذالك لعل الناس اسے پہچان سکیں۔ان نشانوں میں سے ایک نشان يعرفون منها أن الشهب شہب ثاقب ہیں جو اس کی تائید میں دو دفعہ ٹوٹ کر الثواقب انقضت له مرتان گرے۔اور اس کی صداقت پر چاند اور سورج نے وشهد على صدقه القمران ، إذا گواہی دی۔جب انہیں رمضان میں گرہن لگا انخسفا في رمضان، وقد أخبر به اور اس کی قرآن نے بھی خبر دی تھی جب اس نے القرآن، إذ ذكرهما فی علامات آخری زمانے کی علامات میں ان دونوں کا ذکر آخر الزمان، ثم الحدیث فصل کیا۔پھر حدیث میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جو ما كان مجملا فى الفرقان، وقد قرآن میں مجمل طور پر تھا۔یقیناً اللہ نے ان أنبأ الله بهما هذا العبد كما هي دونوں نشانات کی اطلاع اس بندہ کو بھی دی جیسا کہ مسطورة في البراهين قبل ظهورها براہین احمدیہ میں بھی ان کے ظہور سے پہلے لکھا ہوا ہے۔