الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 176

۷۷ ضميمه حقيقة الوحى ۱۷۶ الاستفتاء الخاتمة الخاتمة وقع في نفسي أن أكتب شيئًا من میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں اس رسالے سوانحى وسوانح آبائي في هذه میں اپنی اور اپنے آباء واجداد کی سوانح میں سے لکھوں الرسالة، لأعرف به النَّاسَ أمرى تاکہ اس کے ذریعہ میں اپنے معاملہ کولوگوں میں لعل الله ينفعهم، ويزيدهم قوة روشناس کراؤں ۔ شاید (اس طرح) اللہ انہیں فائدہ لرفع الضلالة، ولعلهم يفكرون پہنچائے اور گمراہی دور کرنے کے لئے ان کی قوت في أصل الحقيقة، ويميلون إلی میں اضافہ کرے اور شاید وہ اصل حقیقت پر غور کریں العدل والنصفة۔ اور عدل و انصاف کی طرف مائل ہوں ۔ فـاعـلـمـوا، رحمكم الله، أنـي اللہ تم پر رحم فرمائے ۔ جان لو کہ میں مسمی أنا المسمى بغلام أحمد بن ميرزا غلام احمد ابن میرزا غلام مرتضی ہوں اور میرزا بن میرزا عطا محمد، وميرزا عطا محمد غلام مرتضی ابن میرزا عطا محمد اور میرزا بن میرزا گل محمد، و میرزا عطا محمد ابن میرزا گل محمد اور میرزا گل محمد ابن گل محمد بن ميرزا فیض محمد، میرزا فیض محمد اور میرزا فیض محمد ابن میرزا غلام مرتضی، و میرزا غلام مرتضی وميرزا فيض محمد بن میرزا محمد قائم، محمد قائم اور میرزا محمد قائم ابن میرزا محمد اسلم اور و میرزا محمد قائم بن میرزا محمد أسلم، وميرزا محمد اسلم بن میرزا میرزا محمد اسلم ابن میرزا دلاور بیگ اور دلاور بیک، و میرزا دلاور بیک میرزا دلاور بیگ ابن میرزا الہ دین اور بن ميرزا إله دين، وميرزا إله دين بن میرزا جعفر بیک، و میرزا جعفر بیک میرزا الہ دین ابن میرزا جعفر بیگ اور بن میرزا مـحـمـد بیک، و میرزا میرزا جعفر بیگ ابن میرزا محمد بیگ اور محمد بیک بن میرزا محمد عبد الباقی، میرزا محمد بیگ ابن میرزا محمد عبد الباقی اور و میرزا محمد عبد الباقي بن میرزا میرزا محمد عبدالباقی ابن میرزا محمد سلطان اور محمد سلطان، و ميرزا محمد سلطان بن میرزا هادی بیک۔ میرزا محمد سلطان ابن میرزا ہادی بیگ۔