الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 176
ضمیمه حقيقة الوحي الخاتمة 127 الخاتمه الاستفتاء وقع في نفسى أن أكتب شيئًا من میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں اس رسالے سوانحي و سوانح آبائی فی هذہ میں اپنی اور اپنے آباء واجداد کی سوانح میں سے لکھوں الرسالة، لأعرف به النَّاسَ أمری، تا کہ اس کے ذریعہ میں اپنے معاملہ کولوگوں میں لعل الله ينفعهم، ويزيدهم قوة روشناس کراؤں۔شاید (اس طرح) اللہ انہیں فائدہ لرفع الضلالة، ولعلهم يفكرون پہنچائے اور گمراہی دور کرنے کے لئے ان کی قوت في أصل الحقيقة، ويميلون إلى ميں اضافہ کرے اور شاید وہ اصل حقیقت پر غور کریں العدل والنّصفة۔اور عدل وانصاف کی طرف مائل ہوں۔فـاعـلـمـوا رحمكم الله، أنـي اللہ تم پر رحم فرمائے۔جان لو کہ میں مسمیٰ أنا المسمى بغلام أحمد بن ميرزا غلام احمد ابن میرزاغلام مرتضی ہوں اور میرزا غلام مرتضی و میرزا غلام مرتضی عطا محمد، وميرزا عطا محمد بن ميرزا۔غلام مرتضی ابن میرزا عطا محمد اور میرزا بن میرزا گل محمد، و میرزا عطا محمد ابن میرزا گل محمد اور میر زاگل محمد ابن گل محمد بن ميرزا فیض محمد، میرزا فیض محمد اور میرزا فیض محمد ابن میرزا و ميرزا فيض محمد بن میرزا محمد قائم و میرزا محمد قائم بن میرزا محمد قائم اور میرزامحمد قائم ابن میرزا محمد اسلم اور محمد أسلم، و میرزا محمد اسلم بن میرزا میرزا محمد اسلم ابن میرزا دلاور بیگ او دلاور بیک، و میرزا دلاور بیک میرزا دلاور بیگ ابن میرزا الہ دین اور بن ميرزا إلـه دين، وميرزا إله دين بن اور میرزا جعفر بیک، و میرزا جعفر بیک میرزا الہ دین ابن میرزا جعفر بیگ اور بن میرزا محمد بیک، و میرزا میرزا جعفر بیگ ابن میرزا محمد بیگ اور محمد بیک بن میرزا محمد عبد الباقی، میرزا محمد بیگ ابن میرزا محمد عبد الباقی اور و میرزا محمد عبد الباقی بن میرزا میرزا محمد عبدالباقی ابن میرزا محمد سلطان اور محمد سلطان، و ميرزا محمد سلطان بن میرزا هادی بیک۔میرزامحمد سلطان ابن میرزا ہادی بیگ۔