الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 175
ضميمه حقيقة الوحى ۱۷۵ الاستفتاء وأوحي في ٢٧ ستمبر سنة اور ۲۷ ستمبر کو ۱۹۰۶ کو اردو میں یہ الہام ہوا ۔ اے ١٩٠٦ء: ترجمة الهندی مظفر تجھ پر سلام ہو کہ خدا نے تیری دعا سن السلام عليك أيها المظفّر ۔ شمع لی میری میری نشانیاں ظاہر ہوگئیں اور خوشخبری در ادے ان دعاؤك۔ بـلـجـت آياتي، وبَشِّرِ لوگوں کو جو ایمان لائے کہ بے شک ان کے واسطے الذين آمنوا بأن لهم الفتح۔ وأوحى فتح ہے ۔ اور ۲۰ اکتوبر۱۹۰۶ء کو اردو میں وحی ہوئی في ٢٠ أكتوبر سنة ١٩٠٦ء: دو ” کاذب کا خدا دشمن ہے۔ وہ اس کو جہنم میں ترجمة الهندى): الله عدو الكاذب، وإنه يوصله إلى جهنم پہنچائے گا۔ کمترین کا بیڑا ا بیڑا غرق ہو گیا۔ تیرے رب أُغرقت سفينة الأذل۔ إن بطش کی گرفت بہت سخت ہے۔ اور یکم فروری ۱۹۰۷ء ربك لشديد۔ وأوحى فى كو اردو میں وحی ہوئی ”روشن نشان “ اور ” ہماری فتح ا / فرورى سنة ۱۹۰۷ء: (ترجمة) ہوئی ۔ اور ے فروری ۱۹۰۷ ء کو وحی ہوئی ”ایک اور الهندى): الآية المنيرة وفتحنا عید ہے جس میں تو ایک بڑی فتح پائے گا۔ مجھے وأوحى في ۷ فرورى سنة چھوڑ تا میں اس شخص کو قتل کروں جو تجھے ایذا دیتا ۱۹۰۷ء : العيد الآخر۔ تنال منه ہے۔ دشمنوں کیلئے عذاب ہر چار طرف سے ہے فتحا عظيمًا۔ دَعْنِي أَقْتُلُ من اور ارد گرد سے گھیرے ہوئے ہے۔ اور جب یہ آذاك۔ إن العذاب مُربَّعٌ ومُدَوِّرٌ ۔ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایک وإن يروا آيةً يُعرضوا ويقولوا سحر مستمر۔ وأُوحِيَ في سابع مارچ سنة ١٩٠٧ء: يأتون بنعشه 66 معمولی اور قدیمی سحر ہے۔ اور ۱۷ مارچ ۱۹۰۷ء کو وحی ہوئی اس کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔ میں ایک کاذب کی موت کی خبر دیتا ملفوفاً ۔۔ نعيت ۔۔ من سابع مارچ إلى آخره: یعنی يُشاع موت ہوں۔ سات مارچ سے آخر تک یعنی اس شخص ذالك الرجل إلى هذا الوقت۔ ڈوئی کی موت کی اس وقت مقررہ تک تشہیر کر دی جائے گی۔ خدا سچوں کے ساتھ ہے۔ منہ۔ إن الله مع الصادقين۔ منه