الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 175

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۷۵ الاستفتاء وأُوحِى في ۲۷ / ستمبر سنة اور ۲۷ ستمبر کو ۱۹۰۶ کو اردو میں یہ الہام ہوا۔اے ١٩٠٦ء ترجمة الهندی مظفر تجھ پر سلام ہو کہ خدا نے تیری دعا سن السلام علیک ایھا المظفّر۔شمع لی۔میری نشانیاں ظاہر ہو گئیں اور خوشخبری دے ان دعاؤک بلجت ،آیاتی، وبَشِّرِ لوگوں کو جو ایمان لائے کہ بے شک ان کے واسطے الذين آمنوا بأن لهم الفتح۔وأُوحِيَ في في ٢٠ أكتوبر سنة ١٩٠٦ء: فتح ہے۔اور ۲۰ را کتوبر ۱۹۰۶ء کو اردو میں وحی ہوئی (ترجمة الهندى): الله عدوّ کاذب کا خدا دشمن ہے۔وہ اس کو جہنم میں پہنچائے گا۔کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔تیرے رب الكاذب، وإنه يوصله إلى جهنّم۔أُغـرقـت سـفـيـنـة الأذلّ۔إن بطشَ کی گرفت بہت سخت ہے۔اور یکم فروری ۱۹۰۷ء کو اردو میں وحی ہوئی ”روشن نشان “ اور ”ہماری فتح ربک لشديد۔وأوحـي فــي ۱ / فرورى سنة ۱۹۰۷ء: (ترجمہ ہوئی۔“ اور ے فروری ۱۹۰۷ء کو وحی ہوئی ”ایک اور الهندى): الآية المنيرة وفتحنا عيد ہے جس میں تو ایک بڑی فتح پائے گا۔مجھے وأوجي فی ۷ فروری سنہ چھوڑ تا میں اس شخص کو قتل کروں جو تجھے ایذا دیتا ١٩٠٧ء: الـعـيـد الآخر۔تنال منه ہے۔دشمنوں کیلئے عذاب ہر چار طرف سے ہے فتحا عظيمًا۔دَعْنِي أقتُلُ من اور ارد گرد سے گھیرے ہوئے ہے۔اور جب یہ اردگر ہے۔اور آذاك۔إن العذاب مُربَّعٌ ومُدَوّرٌ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایک ا وإن يروا آيةً يُعرضوا ويقولوا سحر مستمر۔وأُوحِيَ في سابع مارچ سنة ١٩٠٧ء: يأتون بنعشه۔66 معمولی اور قدیمی سحر ہے۔اور ۷/ مارچ ۱۹۰۷ء کو وحی ہوئی اس کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔میں ایک کاذب کی موت کی خبر دیتا ملفوفاً۔۔نعيتُ۔۔من سابع مارچ إلى آخره: یعنی يُشاع موت ہوں۔سات مارچ سے آخر تک یعنی اس شخص ذالك الرجل إلى هذا الوقت ڈوئى كى موت کی اس وقت مقررہ تک تشہیر کر دی إن الله مع الصادقين۔منه جائے گی۔خدا سچوں کے ساتھ ہے۔منہ۔