الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 170

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۷۰ الاستفتاء ليـر حـلـه الفالج من الحياة الخبيث تاکہ یہ فالج اسے خبیث زندگی سے عدم کی طرف إلى العدم۔وكان يُنقل من مكان إلى لے جائے۔اور وہ لوگوں کی گردنوں پر بٹھا کر ایک مكان فوق ركاب الناس، و كان إذا جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا اور جب اسے أراد التبرز يحتاج إلى الحقنة من بول و براز کی حاجت ہوتی تو وہ لوگوں کے ہاتھوں أيدى الأناس۔ثم لحق به الجنون، حقے کا محتاج ہوتا۔پھر اسے جنون لاحق ہو گیا۔جس فغلب عليه الهذيان في الكلمات، کے نتیجہ میں اس کی گفتگو ہذیان اور حرکات وسکنات والاضطراب في الحركات میں بے چینی غالب آگئی اور یہ اس کی انتہائی والسكنات، وكان ذالک آخر رسوائی تھی۔پھر طرح طرح کی حسرتوں کے ساتھ المخزيات۔ثم أدركه الموت اسے موت نے آن لیا اور اس کی موت بتاریخ بأنواع الحسرات، وكان موته في ۹ / مارچ ۱۹۰۷ ء کو ہوئی۔اور اس کی خوبیوں کا ذکر تاسع من مارج سنة ١٩٠٧ء، وما كانت له نوادب، ولا من يبكى عليه کر کے نوحہ کرنے والیاں نہ تھیں اور نہ اس پر کوئی بذكر الحسنات۔رونے والا تھا۔وأوحى إلى ربّي قبل أن أسمع اور اس کی موت کی خبر سننے سے قبل ، میرے رب خبر موته وقال : إِنِّى نَعَيتُ إنّ نے میری طرف وحی کی اور فرمایا: " إِنِّی نَعَيْتُ ان الله مع الصادقين۔ففهمت أنّه الله مع الصادقین یعنی ”میں نے ایک کا ذب کی موت کی خبر دی۔اللہ صادقوں کے ساتھ ہے۔تب میں سمجھ گیا کہ اللہ نے مجھ سے مباہلہ کرنے والوں میں أخبرني بموت عدوّى وعدوّ دينى من المباهلين۔فكنتُ بعد سے میرے دشمن اور میرے دین (اسلام) کے دشمن کی هذا الوحى الصريح من موت کی خبر دی ہے۔اس واضح وحی کے بعد میں منتظر المنتظرين، وقد طبع قبل وقوعه رہا۔اور اس پیشگوئی کے وقوع سے پہلے اسے اخبار بدر في جريدة بذر والحكم ليزيد اور احکام میں طبع کر دیا گیا تھا تا کہ یہ اپنے ظہور کے عند ظهوره إيمان المؤمنين وقت مومنوں کے ایمان میں اضافہ کا موجب ہو۔