الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 167

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۶۷ الاستفتاء حتى إن أباه أشاع في بعض جرائد یہاں تک کہ خود اس کے باپ نے امریکہ کے بعض أمريكة أنه زنيم ولد الزنا وليس اخبارات میں شائع کیا کہ وہ ( ڈوئی ) حرامی اور ولد من نطفته و کذالک انتسفته الزنا ہے اور اس کے نطفے سے نہیں۔اس طرح ادبار ريَاحُ الإدبار والانقلاب و كمّل له و انقلاب کی آندھیوں نے اس کو جڑ سے اکھاڑ الدهر جميع أنواع الذلّة، فصار دیا۔اور زمانے نے تمام قسم کی ذلتیں اس کی ذات کرمـيـم فــي التراب أو كسلیم میں مکمل کر دیں۔جس سے وہ خاک میں دبی بوسیدہ غرض التباب، وصار كنكرة لا ہڈی کی طرح ہو گیا یا اس مارگزیدہ شخص کی طرح جو يُعرف، بعد ما كان بكل وجاهة تباہی کا نشانہ بن گیا ہو۔تمام تر وجاہت مذکورہ کے يوصف۔وانتشر كلُّ مَن كان معه باوجود وہ ایسا اجنبی بن گیا جو معروف نہ ہو۔اس کے من الأتباع، وما بقى شيء فی یدہ جتنے بھی پیروکار تھے وہ تتر بتر ہو گئے۔اور اس کے من النقد والعقار والضياع، وبرز ہاتھ میں زر نقد اور جاگیر و جائیداد میں سے کچھ بھی كالبائس الفقير، والذليل الحقير باقی نہ رہا۔اور وہ ایک بد حال محتاج اور ذلیل حقیر کی غِيضتُ حياضه، وجَفَّتْ ،ریاضه طرح ہو گیا۔اس کے حوض اور اس کے باغات اور وخَلَتْ جفانه و نحس مكانه اس کا مکان منحوس ہو گیا اور اس کا چراغ گل ہو وطفى مصباحه، ورفعت صياحه، گیا اور اس کی چیخ و پکار بلند ہوئی۔باغات اور ان ونُزعت عنه البساتين وعيونها کے چشمے اور گھوڑے اور ان کی سواری اس سے چھن والخيل ومتونها، وضاق علیه سهل گئے۔اور نرم اور سنگلاخ زمین اس پر تنگ ہو گئی۔اور ۷۴ الأرض وخزونها، وعادته الأودية وادیاں اور گھاٹیاں اس کی دشمن ہوگئیں ، اور وہ خزانے وبطونها، وسُلبت منه الخزائن التي اس سے چھین لئے گئے جن کی چابیوں کا وہ مالک ملک مفاتحها، ورأى حروب تھا۔اس نے دشمنوں کی طرف سے لڑائی جھگڑے العدا ومضائقها۔ثم بعد كلّ خزى اور ان کی ایذا رسانیاں دیکھیں اور پھر تمام تر ذلت وذلة فـلـج مـن الـرأس إلى القدم اور رسوائی کے بعد اسے سر سے پاؤں تک فالج ہو گیا حمد ایڈیشن اول میں اس مقام پر صفہ اے ختم ہوتا ہے اور اگلے صفحات ۳۷۲ے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ڈاکٹر ڈروئی کی تصاویر ہیں۔جو آپ اگلے صفحات میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔(ناشر)