الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 165

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۶۵ الاستفتاء وإنه كان قبل دعائی ذا السطوة میری اس دعا سے پہلے اسے شاہانہ سطوت، قوت و السلطانية، والقوة والشوكة، شوکت اور ایسی شہرت جلیلہ حاصل تھی جس نے والشهرة الجليلة، التي أحاطت دائرے کی طرح ساری زمین کو اپنے احاطہ میں لیا الأرض كالدائرة۔وكان صاحب ہوا تھا۔اور وہ بلند و بالا عمارات اور نہایت مضبوط الدور المنجدة، والقصور محلات کا مالک تھا ، اور اس نے عمر بھر کسی مصیبت کا المُشيدة۔و ما رأى داهية في منہ نہ دیکھا تھا اور اپنے جتھے کو ہر روز تعداد میں مدة عمره، ورأى كلّ يوم زيادة بڑھتے ہوئے دیکھا تھا ، اور دنیا کی ہر ممکنہ نعمت زمرہ۔وكان له حاصلا ما أمكن اور آسائش اسے حاصل تھی اور وہ تنگی کے زمانہ اور تلخی في الدنيا من الآلاء والنعماء کی گھڑی سے نا آشنا تھا ، اور حریر و دیباج کالباس وكان لا يعلم ما يوم البأساء وما زیب تن کرتا تھا، تیز رفتار اور خوش و خرام سواریوں پر ساعة الضراء۔وكان يلبس سوار ہوتا تھا۔اور موتوں کے تیر سے کلیتہ غافل ہوکر الديباج، ويركب الهملاج وہ یہی خیال کرتا تھا کہ وہ عمر دراز پائے گا۔اور وہ وكان يظن أنه يرزق عمرًا طويلا ان لوگوں کی طرح دن گزارتا تھا جن کے سامنے غافلا من سهم المنايا و كان لوگ سجدہ ریز ہوتے اور ان کی پرستش کرتے اور يزجي النهار كالمسجودین انہیں عظمت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور راتیں والمعبودين و المعظَّمين، نرم و گداز بستروں پر بسر کرتا تھا لیکن جب اللہ نے ويفترش الحشايا بالعشايا۔وإذا اپنی تقدیر نازل فرمائی تا کہ وہ اس کی تصدیق کرے أنزل الله قدره ليُصدق ما قلتُ جو میں نے اس کی زندگی کے انجام کی نسبت کہا في مآل حياته، فانقلبت أيام تھا۔تو اس کے عیش اور مسرتوں کا زمانہ پلٹ گیا اور عيشه ومسراته، وأراه الله دائرة اللہ نے اسے رنج والم کا درد دکھایا۔اور اپنے السوء ، ولدغ كلَّ لَدُعْ مِن ہی سانپوں سے وہ بری طرح ڈسا گیا۔یعنی اپنی حيواته، أعنى أفاعي أعماله و سيّاته ہی بد اعمالیوں اور بدکرداریوں کے سانپوں سے۔