الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 164
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۶۴ الاستفتاء وهذا قول صاحب جريدة كان يہ بات اس اخبار کے مدیر نے کہی جس نے ڈوئی تقضى أخلاقه، وجرب ما يخرج کے اخلاق کا پورا پورا کھوج لگایا ہے۔اور اس من لسانه وذاقه۔و کذالک قال ڈولی کی زبان سے جو نکلتا ہے اس کا اس نے تجربہ كثير من أهل الجرائد، وإنهم من کیا اور مزہ چکھا ہے۔ایسی ہی بات دوسرے بہت أعزّة أهل أمريكة ومن العمائد سے اخبارات کے مدیروں نے بھی کہی ہے۔یہ ثم مع ذالك إنّي جربت أخلاقه سب امریکہ کے معززین و عمائدین میں سے ہیں عند مسألة المباهلة، فإذا بلغه پھر علاوہ ازیں مسئلہ مباہلہ کے وقت میں نے خود مکتوبی غضب غضبا شديدا اس کے اخلاق کا تجزیہ کیا ہے۔اور جب اسے یہ واشتعل من النخوة، وأرى أنياب ميرا خط ملا تو وہ سخت غضبناک ہوا اور تکبر ونخوت ذياب الأجمة، وقال: ما أرى هذا سے مشتعل ہو گیا اور جنگل کے بھیڑیوں کی طرح الرجل إلَّا كبعوضة بل دونها، کچلیاں دکھائیں اور کہا کہ میں اس شخص کو مچھر وما دعتنى البعوضة بل دعت بلکہ مچھر سے بھی کمتر سمجھتا ہوں اور مجھے اس مچھر منونها۔وأشاع هذا القول في نے دعوت نہیں دی بلکہ اپنی موت کو بلایا ہے۔اور جريدته، وكفاك هذا لرؤية اس نے یہ بات اپنے اخبار میں شائع کی۔كبره ونـخـوتــه، فهذا الكبر هو تمہارے لئے یہ بات اس کے کبر ونخوت کا اندازہ الذي حقنی علی الدعاء لگانے کے لئے کافی ہے۔یہ اس کا کبر ہی تھا جس والابتهال، متوكلا على و كلا على الله ذی نے مجھے اللہ عز و جل پر تو کل کرتے ہوئے دعا العزّة والجلال۔اور ابتہال پر آمادہ کیا۔وكان هذا الرجل صاحب الدولة میری دعوت مباہلہ سے قبل یہ شخص بڑی دولت کا ٧٠ العظيمة قبل أن أدعوه إلى المباهلة مالک تھا۔میں اس کے خلاف یہ دعا کرتا تھا کہ اللہ اسے و كنت دعوت عليه ليُهلكه الله بالذلة والمتربة والحسرة۔ذلت ، خواری اور حسرت کے ساتھ ہلاک کرے۔