الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 163

ضميمه حقيقة الوحى ۱۶۳ الاستفتاء مثلا بين الناس في الشتم والسب، وما كان منتهيا من المنع والذب۔ وإذا باهلته ودعوته للمباهلة ليظهر بموت الكاذب صدق الصادق من حضرة العزة، فقال قائل من أهل صلى الله ۔ ولذالك سماه النبي صلى اللہ علیہ اور اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے اس کو خنزیر کے نام ۶۸ خنزيرا بما ساءت هذا الخبيث سے موسوم فرمایا کیونکہ اس خبیث کو طیبات بری لگتی الطيبات، وسرته نجاسة الشرک تھیں۔ اور شرک کی نجاست اور مفتریات اس کو خوش والمفتريات۔ وقد عرف الناظرون فی کرتی تھیں۔ ناظرین نے اس کی باتوں میں اسلام کلامه توهين الإسلام فوق کل کی حد درجہ تو ہین کو جان لیا ہے۔ اور گواہوں نے ہر توهين، وشهد الشاهدون على ملعون سے بڑھی ہوئی اس کی ملعونیت کی گواہی دی ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگوں کے درمیان سب وشتم ملعونيّته فوق كل لعين، حتى إنه صار میں ایک مثال بن گیا۔ اور وہ محض روکنے اور منع کرنے سے رکنے والا نہیں تھا۔ اور جب میں نے اس سے مباہلہ کیا اور اسے مباہلہ کی دعوت دی تا کہ کاذب کی موت کے ذریعہ رب العزت کی طرف سے صادق کا صدق ظاہر ہو تو اہل امریکہ میں سے ایک نے کہا اور اس کی بات اس کے اخبار میں طبع ہو أمريكة وطبع كلامه في جريدته، چکی ہے اور اس نے ڈوئی کے معاملہ اور اس کی وتكلم بلطيفة رائقة ونكتة مضحكة سیرت کے متعلق ایک خوب لطیفہ اور پر مزاح بات في أمر ڈوئی وسیرته، فكتب أن دوئی کی ہے۔ اور اس (امریکی ) نے لکھا کہ ڈوئی اس لن يقبل مسألة المباهلة، إلا بعد مباہلہ کے مسئلہ کو اس مقابلہ کی شرائط میں تبدیلی تغيير شرائط هذه المصارعة، فيقول: کے بعد ہی قبول کرے گا۔ اور وہ کہے گا کہ میں اس لا أقبل المباهلة، ولكن ناضلونى فى طرح كا مباہلہ منظور نہیں کرتا۔ لیکن ہاں مجھ سے التشاتم والتساب، فمن فاق حریفہ فی گالی گلوچ میں مقابلہ کر لو۔ پس جو سب وشتم کی كثرة السبّ وشدّة الشتم فهو صادق کثرت اور شدت میں اپنے حریف پر فوقیت لے گیا وحـريـفـه كاذب من غير الارتیاب تو وہ سچا اور اس کا حریف بلا شک و شبہ جھوٹا ہوگا۔ 19