الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 162
ضميمه حقيقة الوحي ۱۶۲ الاستفتاء و خلاصة الكلام أن دوئى كان اور خلاصہ کلام یہ کہ ڈوئی ایک بدترین شخص ، دل شر الناس، وملعون القلب، ومثیل کے اعتبار سے ملعون اور خناس شیطان کا مثیل الخناس، وكان عدو الإسلام بل تھا۔ اور وہ اسلام کا دشمن بلکہ تمام دشمنوں میں سے أخبث الأعداء ، وكان يريد أن خبیث ترین تھا۔ اور وہ چاہتا تھا کہ اسلام کو ایسے جڑ يجيح الإسلام حتى لا يبقى اسمه سے اکھاڑ دے کہ آسمان کے نیچے اس کا نام و نشان تحت السماء۔ وقد دعا مرارًا فی تک باقی نہ رہے۔ اور اس نے اپنے ملعون اخبار جريدته الملعونة على أهل الإسلام میں متعدد بار مسلمانوں اور ملت حنیف کے لئے والملة الحنيفية، وقال: اللهم بددعا کی اور کہا کہ اے اللہ تو تمام مسلمانوں کو ہلاک أهلك المسلمين كلهم، ولا تُبقِ کر دے اور ملکوں میں سے کسی ملک میں ان کا فرد منهم فردا في إقليم من الأقاليم باقی نہ رہنے دے۔ اور مجھے ان کا زوال اور وأرنى زوالهم واستيصالهم وأشع استیصال دکھا۔ اور تمام روئے زمین پر تثلیث اور في الأرض كلها مذهب التثليث اقانیم ( ثلاثہ ) کے عقیدہ کو پھیلا ۔ نیز اس نے کہا وعقيدة الأقانيم ۔ وقال أَرْجُو أَنْ کہ میری یہ خواہش ہے کہ میں تمام مسلمانوں کی أرى موت المسلمين كلهم وقلع موت اور دین اسلام کی بیخ کنی کو اپنی آنکھوں سے دين الإسلام، وهذا أعظم مراداتی دیکھوں ۔ اور یہ میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا في حياتي، وليس لی مراد فوق ہے۔ اس مقصد سے بڑھ کر میری کوئی اور آرزو هذا المرام۔ وكل هذه الكلمات نہیں ہے۔ اور یہ سب کلمات اس کے ان انگریزی موجودة في جرائده التي موجودة عندنا اخبارات میں پائے جاتے ہیں جو ہمارے پاس في اللسان الإنكليزية، ويعلمها من موجود ہیں۔ اور جوان جرائد کو پڑھے گا اس کو یہ سب قرأها من غير الشك والشبهة باتیں بلا شک و شبہ معلوم ہو جائیں گی۔ پس اے فكفاك أيُّها الناظر لتخمين خُبث غور کرنے والے تیرے لئے یہ کلمات اس مفتری هذا المفترى هذه الكلمات کی خباثت کا اندازہ لگانے کے لئے کافی ہیں