الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 158
ضميمه حقيقة الوحي نمبر اسم الجريدة وتاريخه ا شکاگو انٹر پریٹر جون ۱۹۰۳ء ۲ ۱۵۸ ترجمة خلاصة مضمونها الاستفتاء إن الميرزا غلام أحمد رجل من الفنجاب، وهو يدعو دوئى“ للمباهلة ۔ أيُظَنُّ أنه يخرج في هذا الميدان؟ وإن الميرزا يكتب أن "دوئى مفترى كذاب في دعوى النبوة، وإني أدعو الله أن يُهلكه ويستأصله كل الاستيصال۔ ويقول: إني على الحق وإن دوئى على الباطل ، فالله يحكم بيننا بأنه يُهلك الكاذب، ويستأصله في حين حياة الصادق۔ وإن الميرزا غلام أحمد يقول: إني أنا المسيح الموعود وإن الحق في الإسلام۔ ٹیلیگراف ۵ جولائی ۱۹۰۳ء مطابق بما سبق بأدنى تغير الألفاظ۔ ارگونات سان فرانسسکو مطابق بما سبق بأدنى تغير الألفاظ، ومع ذالك قال إن هذا یکم دسمبر ۱۹۰۲ء الطريق طريق معقول ومبنى على الإنصاف۔ ولا شك أن الرجل الذي يُستجاب دعاؤه فهو على الحق من غير شبهة۔ الحاشية نمبر اخبار کا نام اور تاریخ خلاصہ مضمون کا ترجمہ 1 شکا گوانٹر پریٹر مرزا غلام احمد پنجاب کے رہنے والے ہیں اور وہ ڈوئی کو دعوت مباہلہ دیتے ہیں ۔ کیا جون ۱۹۰۳ء خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ (ڈوئی ) اس میدان میں نکلے گا۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ڈوئی دعوائے نبوت میں مفتری اور کذاب ہے۔ اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے ہلاک کرے اور اس کی پوری طرح بیخ کنی کرے۔ اور وہ (مرزا صاحب) کہتے ہیں کہ حاشيه ہے۔ میں حق پر ہوں اور ڈوئی باطل پر ہے۔ اس لئے اللہ ہمارے درمیان یوں فیصلہ کرے گا کہ وہ کا ذب کو ہلاک کرے گا اور صادق کی زندگی میں ہی اس کی بیخ کنی کرے گا۔ اور مرزاغلام احمد کہتے ہیں کہ میں ہی مسیح موعود ہوں اور حق صرف اسلام میں ۔ ٹیلیگراف ۵ جولائی ۱۹۰۳ء الفاظ کے معمولی تغیر سے مضمون مذکورہ بالا کے مطابق ۔ ارگوناٹ ۔ سان فرانسسکو الفاظ کی معمولی تبدیلی سے مضمون مذکورہ بالا کے مطابق ۔ مزید براں ایڈیٹر کہتا ہے کہ یہ طریق فیصلہ معقول طریق اور مبنی بر انصاف ہے۔ اور یقیناً جس کو بنا جس شخص کی دعا یکم دسمبر ۱۹۰۲ء قبول ہوگی وہی بلا شبہ حق پر ہوگا۔ 2 3