الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 157
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۵۷ الاستفتاء وما كان رجل في أمريكة ولا فی یورب اور امریکہ اور یورپ کے بڑے اور چھوٹے طبقوں من الأكابر والأصاغر إلَّا كان يعرفه میں کوئی فرد ایسا نہ تھا جو اس کو پورے طور پر نہ جانتا بالمعرفة التامة۔وكانت له عظمة ہو۔اور ان ملکوں کے رہنے والوں کی نگاہوں میں ونباهة كالسلاطين في أغين أهل تلک اس کی عظمت اور شرف بادشاہوں کی طرح تھا۔البلاد، ومع ذالك كان كثير السياحة، مزید برآں وہ بہت سفر کرنے والا شخص تھا۔اور يصطاد الناس بوعظه كالصياد۔اپنے وعظ سے لوگوں کو شکاری کی طرح شکار کرتا فلذالك ما أبى أحد من أهل تھا۔یہی وجہ تھی کہ اخبار والوں میں سے کسی نے الجرايد أن يطبع ما أرسل إليه في أمره اس مضمون کو چھاپنے سے کبھی انکار نہ کیا جو اسے من مسألة المباهلة، بل ساقهم حرص اس کے متعلق بسلسلہ مباہلہ بھیجا جا تا۔بلکہ اس گشتی رؤية مآل المصارعة إلى الطبع کے انجام کو دیکھنے کی شدید خواہش نے انہیں اس والإشاعة۔والجرائد التي طبعت طباعت و اشاعت پر آمادہ کیا۔اور جن اخبارات فيها مسألة مباهلتی و دُعائی علی میں میری دعوت مباہلہ اور ڈوئی کے خلاف میری ڈوئي هي كثيرة من جرائد أمريكة، دعا چھپی وہ بہت سے امریکی اخبار ہیں لیکن ہم ولكنا نذكر على طريق النموذج بطور نمونہ ان میں سے چند ایک کا ذکر اس حاشیہ شيئًا منها في حاشيتنا هذه بالا ؟ میں کرتے ہیں می حاشیہ اور اس کا اردو ترجمہ اگلے صفحات پر ملاحظہ فرمائیں