الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 12
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۲ الاستفتاء وما استطاع عدو أن يمنع ما أراد اور کسی دشمن کو یہ طاقت نہ ہوئی کہ جواللہ نے نصرت اور الله من النصرة وإنزال الآلاء انعامات کے نازل کرنے کا ارادہ فرمایا ہے اسے روک عتى حلّ القدر الذي منعوه، سکے یہاں تک کہ وہ تقدیر نازل ہوئی جسے انہوں نے وأُنجز الوعد الذي كذبوه، وأُعطى ذالك العبد خطاب الخلافة من روکنا چاہا تھا اور وہ وعدہ پورا ہو گیا جسے انہوں نے جھٹلایا تھا اور اس بندے کو آسمان سے خلافت کا السماء۔إنّ في ذالك لآية لمن خطاب دیا گیا۔اس میں ہر اس شخص کے لئے جو حق کو طلب الحق وجاء بترك البغض تلاش کرتا ہے اور بغض و کینہ چھوڑ کر آیا ہے بہت بڑا والشحناء۔فبينوا توجروا أيها المتقون : أهذا فعل الله أو تقول نشان ہے۔پس اے تقوی شعار و! بیان کرو تمہیں الإنسان الذي اجترأ على جناية اجر دیا جائے گا۔کیا یہ اللہ کا فعل ہے یا کسی ایسے الافتراء ليُحسب من الذين انسان کا من گھڑت کلام جس نے افترا کے گناہ پر يُرسلون؟ وهل للمتجنّين أمان جرات کی ہے تا وہ رسولوں میں شمار کیا جائے۔کیا من تعذيب الله في هذه الدنيا أو ایسے مجرموں کے لئے اللہ کے عذاب سے اس دنیا هم يعذبون؟ میں کوئی امان ہے یا کہ ان کو عذاب دیا جاتا ہے۔ثم أستفتيـكـم مرةً ثانية أيها پھر اے فقیہو! میں تم سے دوسری مرتبہ فتویٰ المتفقهون، فاتقوا الله وأفتوني طلب کرتا ہوں۔پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ایسے مردوں کی طرح مجھے فتوی دو جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور ظلم نہیں کرتے۔اے جوانو! ایک يظلمون۔يا فتيان۔۔رجل قال شخص جس نے دعویٰ کیا ہے کہ میں اللہ کی طرف إنى من الله، ثم باهله المنكرون سے ہوں۔پھر اس کے منکرین نے اُس سے مباہلہ لعلهم يغلبون۔فأهلكهم الله کیا تا شاید وہ غالب ہو جائیں لیکن اللہ نے انہیں وأخزى وأبطل ما كانوا يصنعون۔ہلاک اور رسوا کیا اور ان کی تدابیر کو باطل کر دیا كرجال يخافون الله ولا