الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 12

ضميمه حقيقة الوحي الم الاستفتاء وما استطاع عدو أن يمنع ما أراد اور کسی دشمن کو یہ طاقت نہ ہوئی کہ جو اللہ نے نصرت اور الله من النصرة وإنزال الآلاء، حتى حل القدر الذي منعوه، وأُنجز الوعد الذي كذبوه، وأعطى انعامات کے نازل کرنے کا ارادہ فرمایا ہے اسے روک سکے یہاں تک کہ وہ تقدیر نازل ہوئی جسے انہوں نے ذالك العبد خطاب الخلافة من روکنا چاہا تھا اور وہ وعدہ پورا ہو گیا جسے انہوں نے جھٹلایا تھا اور اس بندے کو آسمان سے خلافت کا السماء۔ إن في ذالك لآية لمن خطاب دیا گیا۔ اس میں ہر اس شخص کے لئے جو حق کو طلب الحق وجاء بترك البغض والشحناء ۔ فبينوا توجروا أيها تلاش کرتا ہے اور بغض و کینہ چھوڑ کر آیا ہے بہت بڑا المتقون : أهذا فعل الله أو تقول نشان ہے۔ پس اے تقوی شعار و بیان کرو تمہیں اجر دیا جائے گا۔ کیا یہ اللہ کا فعل ہے یا کسی ایسے الإنسان الذي اجترأ على جناية الافتراء ليُحسب من الذين انسان کا من گھڑت کلام جس نے افترا کے گناہ پر يُرسلون؟ وهل للمتجنّين أمان جرات کی ہے تا وہ رسولوں میں شمار کیا جائے۔ کیا من تعذيب الله في هذه الدنيا أو ایسے مجرموں کے لئے اللہ کے عذاب سے اس دنیا میں کوئی امان ہے یا کہ ان کو عذاب دیا جاتا ہے۔ هم يعذبون؟ ثم أسـتـفـتـيــكــم مرة ثانية أيهــا پھر اے فقیہو ! میں تم سے دوسری مرتبہ فتویٰ المتفقهون، فاتقوا الله وأفتوني طلب کرتا ہوں۔ پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور كرجال يخافون الله ولا ایسے مردوں کی طرح مجھے فتویٰ دو جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور ظلم نہیں کرتے۔ اے جوانو! ایک يظلمون يا فتيان۔۔ رجل قال شخص جس نے دعوی کیا ہے کہ میں اللہ کی طرف إنى من الله، ثم باهله المنكرون، سے ہوں۔ پھر اس کے منکرین نے اُس سے مباہلہ لعلهم يغلبون ۔ فأهلكهم الله كيا تا شاید وہ غالب ہو جائیں لیکن اللہ نے انہیں وأخزى وأبطل ما كانوا يصنعون ۔ ہلاک اور رسوا کیا اور ان کی تدابیر کو باطل کر دیا