الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 146
ضميمه حقيقة الوحي ۱۴۶ الاستفتاء وما أفاض رجل ماء الدموع من اور کسی شخص نے اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کا پانی نہ عينيه، وما بادروا إلى التوبة بہایا۔ اور نہ انہوں نے تو بہ کرنے اور اعمال حسنہ والأعمال الحسنة، بل زادوا في بجالانے کیلئے کوئی فوری قدم اٹھایا بلکہ وہ معاصی المعاصي والسيئة۔ وكذبونی اور برائی میں اور بڑھ گئے ۔ اور انہوں نے میری و كفروني، وقالوا دجال لئيم تکذیب کی اور مجھے کافر قرار دیا اور کہا کہ یہ نئیم و ما آنسني في وحدتي إلا ربي رجال ہے اور میری تنہائی میں صرف میرے رب الرحيم۔ واجتمعوا على سبا وشتما رحیم نے میری غمخواری فرمائی۔ اور وہ سب میرے خلاف سب وشتم میں اکٹھے ہو گئے ۔ اور قرض خواہ ولزمونی ملازمة الغريم، وما فاختفينا من أعينهم كأصحاب کے چمٹنے کی طرح وہ مجھ سے چمٹ گئے اور اپنے عرفوني لبغضهم القديم قدیمی بغض کے باعث انہوں نے مجھے نہیں پہچانا۔ اور ہم اصحاب کہف ورقیم کی طرح ان کی نگاہوں الكهف والرقيم۔ وجحدوا سے چھپے رہے۔ اور انہوں نے ظلم اور سرکشی کرتے بآيات الله وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا فما أمكنهم ہوئے اللہ کے نشانوں کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان پر یقین لا چکے تھے۔ پس یہ ان کے لئے الرجوع بعد ما أروا تشددًا ممکن نہ رہا کہ وہ تشدد اور برائی کے مظاہرہ کے بعد وغُلُوا۔ ووالله إن الآيات قد رجوع کرسکیں۔ اور اللہ کی قسم ! نشانات موسلا دھار نزلت كصيب من السماوات۔ أشعلت بارش کی طرح آسمان سے نازل ہوئے۔ چراغ المصابيح فما زالت ظلماتهم روشن ہوئے لیکن پھر بھی ان کی تاریکیاں دور وكثر الإنذار والتنبيه فما قلت نہ ہوئیں۔ انذار اور تنبیہ بکثرت ہونے کے سيئاتهم۔ عكفوا على حطب، با وجود ان کی برائیاں کم نہ ہوئیں ۔ وہ خشک وأعرضوا عن أشجار باسقة، لکڑیوں پر جم کر بیٹھے رہے اور بلند و بالا درختوں ، وأثمار يانعة، وأزهار منورة پکے ہوئے پھلوں اور شگفتہ پھولوں سے بے رخی کی ۔ ا النمل : ۱۵