الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 145
ضميمه حقيقة الوحي الده الاستفتاء ثم يظنون أنهم رزقوا من كل نوع پھر بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں ہر قسم کی نعمتیں دی گئی ہیں النعيم قد رضوا بأن يعيشوا اور اس بات پر خوش ہیں کہ چوپایوں کی سی زندگی كالأنعام، معرضين عن آلاء الله گزاریں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور انعامات سے اعراض کریں ۔ ہمیں ان کی کم ہمتی اور خستہ حالی پر والإنعام۔ فنتعجب من قعود حیرانگی ہوتی ہے۔ اور ہم ان کی اصلاح کے لئے همتهم، وخسة حالتهم، ونسأل الله إصلاحهم، حتى يُرزقوا اس وقت تک اللہ سے التجا کرتے رہیں گے جب تک انہیں کامیابی حاصل نہ ہو جائے اور ہم نے فلاحهم، ووقفنا على الدعاء لهم ان کے لئے دعا کے واسطے اپنے اکثر اوقات، أكثر أوقاتنا ووقت الأسحار بالخصوص اوقات سحر وقف کر دیئے ہیں اور وہ آنکھ والعين التي لا يملكها غمض من بھی جو ان افکار سے اغماض نہیں کرتی (وقف هذه الأفكار۔ ووالله إنى کردی ہے ) ۔ اور اللہ کی قسم! میں نے ایام طاعون أخبرتهم بأيام الطاعون قبل کے ظاہر ہونے سے قبل ہی ان لوگوں کو اس کے ظهورها، وما نطقت إلَّا بعد ما زمانہ کی اطلاع دیدی تھی ۔ اور میں نے کوئی بات نہیں کہی تھی مگر جب میرے رب نے مجھے اس کے أنطقني ربي وأعثرني على مستورها ۔ ثم بعد ذالك أخذهم پوشیده راز سے اطلاع دی اور اس کے بتانے کا ارشاد فرمایا۔ پھر اس کے بعد طاعون نے انہیں اپنی الطاعون، ونزل بهم المنون۔ گرفت میں لے لیا اور ان پر موتوں کا نزول ہوا۔ وكان هذا الخبر في وقت ما اور اس کی یہ اطلاع اس وقت دی گئی جب اطباء کی اهتدى إليه رأى الأطباء ، وما رائے کو اس تک کوئی رسائی نہ تھی ۔ اور کسی عقلمند نـطـق بــه أحد من العقلاء، فوقع نے اس کے متعلق کچھ بھی نہ بھی نہیں کہا تھا۔ پھر ویسے ہی كما أخبر ربّي، وكان هذا برهانا وقوع میں آیا جیسے میرے رب نے مجھے خبر دی تھی عظيما من ربّ السماء ۔ ولكن اور یہ آسمان کے رب کی طرف سے ایک برہانِ الناس ما سرحوا الطرف إليه عظیم تھی لیکن لوگوں نے اس کی طرف نگاہ نہ کی