الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 144

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۴۴ الاستفتاء ويثمر أشجاره من الثمرات اور اس کے پیروں کو پاک پھلوں سے لاد دے۔الطيبات، وليجعل خطبہ اور اس کی جلانے کے قابل ٹہنیوں کو ترو تازہ كالغصون الناعمات۔کذالک شاخوں کی طرح بنادے اور ایسا اس لئے ہوتا ليعرف الناس دین الله القويم لوگ اللہ کے دین قویم کو شناخت کر لیں اور اپنے ويميلوا كل الميل إلى ربهم رب رحیم کی طرف پوری طرح مائل ہوں اور وہ الرحيم، وينفروا عن الدنيا نفور كريم الطبع شخص کی طرح دنیا سے نفرت کریں۔طبـع الـكـريـم۔ولما أسفر صبح اور جب دین کی صبح روشن ہوئی اور اس نے براہین الدين، وأرى شعاع البراهين کی شعاعیں دکھا ئیں تو ان میں سے اکثر نے اپنے غض أكثرهم أبصارهم آنکھیں نیچی کر لیں تاکہ وہ نہ دیکھیں اور انہوں لئلا يبصروا، وعافوا دعوة الله نے جانتے بوجھتے اللہ کے پیغام کو نا پسند کیا۔حیف وهم يعلمون يا حسرة عليهم۔ہے ان پر کہ وہ خیر سے بھاگتے ہیں اور نقصان کی من الخير يفرون، وعلى الضير طرف مائل ہوتے ہیں۔یقیناً دروازہ کھلنے کا وقت يتمايلون۔قد حان أن يُفتح آگیا ہے۔پس کون ہے جو بار بار دستک دے؟ الباب، فمن القارع المنتاب؟ اور جس کی آنکھ ہے اس کے لئے (معرفت کا) وقد جرت العين لمن كانت له العين۔والله غفور رحیم، لا يرد چشمہ جاری ہو گیا ہے۔اللہ غفور و رحیم ہے جو مــن جـاء بـقـلـب سـليم، ومن اس کے پاس قلب سلیم کے ساتھ آئے وہ اسے واپس زاد سؤالا يزده نوالا۔والعجب نہیں لوٹا تا۔اور جو طلب میں بڑھتا جا تا ہے وہ أن القوم جمعوا خصاصاً اسے عطا میں بڑھاتا جاتا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ جسمانيةً مع خصاصة روحانية، قوم نے جسمانی فقر کو روحانی بد حالی کے ساتھ جمع ثم يحسبون أنهم ليسوا کر دیا ہے۔پھر بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خدائے کریم بمـحـتـاجـيـن إلى مصلح من الله کی طرف سے مبعوث ہونے والے مصلح کے محتاج الكريم وسُدّ عليهم كل باب نہیں اور ان پر تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں،