الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 144
ضميمه حقيقة الوحي ママ الاستفتاء ويثمر أشجاره من الثمرات اور اس کے پیروں کو پاک پھلوں سے لا د دے۔ الطيبات، وليجعل حطبه اور اس کی جلانے کے قابل ٹہنیوں کو ترو تازہ كالغصون الناعمات۔ كذالک شاخوں کی طرح بنادے اور ایسا اس لئے ہوتا ليعرف الناس دين الله القويم، لوگ اللہ کے دین قویم کو شناخت کر لیں اور اپنے ويميلوا كل الميل إلى ربهم رب رحیم کی طرف پوری طرح مائل ہوں اور وہ الرّحيم، وينفروا عن الدنيا نفور كريم الطبع شخص کی طرح دنیا سے نفرت کریں۔ طبع الكريم۔ ولما أسفر صبح اور جب دین کی صبح روشن ہوئی اور اس نے براہین الدين، وأرى شعاع البراهين، کی شعاعیں دکھا ئیں تو ان میں سے اکثر نے اپنے غض أكثرهم أبصارهم آنکھیں نیچی کر لیں تا کہ وہ نہ دیکھیں اور انہوں لئلا يبصروا، وعافوا دعوة الله نے جانتے بوجھتے اللہ کے پیغام کو ناپسند کیا۔ حیف من الخير يفرون، وعلى الضير يتمايلون۔ قد حان أن يُفتح الباب، فمن القارع المنتاب؟ وهم يعلمون۔ يا حسرة عليهم۔۔ ہے ان پر کہ وہ خیر سے بھاگتے ہیں اور نقصان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یقیناً دروازہ کھلنے کا وقت آگیا ہے۔ پس کون ہے جو بار بار دستک دے؟ اور جس کی آنکھ ہے اس کے لئے (معرفت کا) وقد جرت العين لمن كانت له العين۔ والله غفور رحيم، لا يردّ چشمہ جاری ہو گیا ہے۔ اللہ غفور و رحیم ہے جو اس کے پاس قلب سلیم کے ساتھ آئے وہ اسے واپس من جاء بـقـلـب ســليم، ومن زاد سؤالا يزده نوالا ۔ والعجب نہیں لوٹاتا۔ اور جو طلب میں بڑھتا جا تا ہے وہ أن القوم جمعوا خصاصةً اسے عطا میں بڑھاتا جاتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جسمانية مع خصاصة روحانية قوم نے جسمانی فقر کو روحانی بد حالی کے ساتھ جمع ثم يحسبون أنهم ليسوا کر دیا ہے۔ پھر بھی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خدائے کریم بمحتاجين إلى مصلح من الله کی طرف سے اسےمبعوث ہونے والے مصلح کے محتاج ۵۹ الكريم وسدّ عليهم كل باب نہیں اور ان پر تمام دروازے بند کر دیئے گئے ہیں،