الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 143
ضميمه حقيقة الوحي ۱۴۳ الاستفتاء والذين كانوا في البارحة ينومون اور وہ جو کل رات تک محلات میں سو رہے تھے في القصور، اليوم تراهم میتین فی آج تو انہیں قبروں میں مردہ پڑے ہوئے دیکھ رہا القبور۔ أقفرت منهم مجالس ہے ۔ مجلسیں ان ۔ مجلسیں سے گئیں ان سے سوئی ہو میں اور محلات ویران و عطلت مقاصر، وحلوا بدار لا ہو گئے اور وہ ایسے گھر میں اترے جس نے انہیں تتركهم أن يرجعوا إلى إخوانهم (اس قابل نہ چھوڑا کہ وہ اپنے بھائیوں کے أو ينزعوا دورهم عن جيرانهم۔ پاس واپس جاسکیں اور اپنے ہمسایوں سے اپنے گھر وترى الناس لا يملكون الفرار من واپس چھین سکیں اور تو لوگوں کو دیکھتا ہے کہ هذا الوباء ، وما بقى لهم مفر انہیں اس وباء سے بچ نکلنے کی طاقت نہیں اور تحت السماء ۔ ولا يُحمل هذا آسمان کے نیچے ان کے لئے کوئی بھاگنے کی راہ البلاء على البخت والاتفاق، كما باقی نہیں رہی ۔ اور جیسا کہ مخالفین کا خیال ہے زعم أهل الشقاق، فالسعيد هو اس بلا کو قسمت اور اتفاق پر محمول نہیں کیا جا سکتا الذي عرف هذه الآيات، وولج پس نیک بخت وہی ہے جس نے ان نشانوں کو پہچانا اور ان سنگلاخ گھاٹیوں میں داخل ہوا۔ شعب تلك الحرّات ۔ فاعلموا رحمكم الله ۔۔ أن الله تم پر رحم فرمائے ! تم جان لو کہ یہ مصائب هذه المصائب من الأقدار التي ان تقدیروں میں سے ہیں جنہیں نہ تم نے اس زمانہ سے پہلے دیکھا اور نہ ہی کبھی تمہارے آباء ما رأيتم قبل هذا الزمان، ولا نے دیکھا۔ اور یہ نشانات صرف اس شخص کی خاطر آباؤكم في حين من الأحيان، وإنما ہیں جسے خدائے منان کی طرف سے تمہارے هی آيات لرجل بعث فيكم من الله درمیان اس لئے مبعوث کیا گیا تا کہ اللہ اپنے ويظهر دین کی تجدید اور اس کے دلائل کو ظاہر کر دے المنان ، ليجدد الله دينه وي براهينه، ويُخضّر بساتينه اور اس کے باغات کو سرسبز و شاداب کرے۔