الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 140
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۴۰ الاستفتاء ذالك بأنهم يجعلون عبدًا ضعيفا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک کمز ور عاجز بندے کو عاجزًا ربّ العالمين، وتركوا خالق رب العالمین قرار دیتے ہیں۔اور انہوں نے آسمانوں السماوات والأرضين۔والله يعلم اور زمینوں کے خالق کو چھوڑ دیا ہے۔اور اللہ جانتا أنهم من الكاذبين المفترین ہے کہ وہ جھوٹے ، مفتری ، دجال اور تحریف کرنے والدجالين المحرفين۔ونعلم أن والے ہیں۔اور ہم جانتے ہیں کہ حکومت ان کے الحكومة ليست معهم، ولا ساتھ نہیں اور نہ ہی وہ انہیں اس امر پر اکساتی ہے تغريهم بهذا الأمر ولا من اور نہ ہی وہ معاونین میں سے ہے بلکہ وہ صرف المعاونين، بل إنهم ليسوا زبانی کلامی عیسائی ہیں جنہوں نے اپنی طرف سے کچھ بالنصارى إلا بأفواههم۔نحتوا قوانین تراش لئے ہیں اور انجیل کو اپنے پس پشت القوانين من عند أنفسهم، وتركوا ڈالا ہوا ہے۔پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ الإنجيل وراء ظهورهم، فکیف عیسائی ہیں۔بلکہ وہ کوئی اور قوم ہیں اور انہوں نے نقول إنّهم النصارى، بل هم قوم دوسرے مسلک اختیار کئے ہوئے ہیں۔اور وہ آخرون، وسلكوا مسالک انجیلوں کو نہیں پڑھتے اور نہ ان کے احکام پر عمل أُخرى، ولا يدرسون الأناجيل، ولا کرتے ہیں اور نہ ہی وہ ان کی طرف متوجہ ہوتے يعملون بأحكامها، ولا إليها ہیں۔ہم جھگڑوں کے وقت ان میں عدل اور يتوجهون۔ونجد فيهم عدلا وإنصافا انصاف پاتے ہیں۔اور میں نے بعض جھگڑوں عند الخصومات، وإنى جرَّبتُ (مقدمات) میں خود اُن میں سے بعض کو آزمایا بعضهم فی بعض المخاصمات، ہے۔اور میں نے انہیں دیکھا ہے کہ وہ موڈت ورأيتهم أنهم أقرب مودةً إلينا، ولا کے اعتبار سے ہمارے زیادہ قریب ہیں۔اور وہ يريدون الظلم ولا يتعمدون۔وإن ظلم نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ (اس کا ) قصد کرتے الليـل تــحــت ظلّهم خير من نهارِ ہیں۔اور ان کے زیر سایہ رات اُس دن کی نسبت رأينا تحت ظل المشرکین زیادہ بہتر ہے جو ہم نے مشرکوں کے زیر سایہ پایا۔