الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 139
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۳۹ الاستفتاء إنكم حاذيتم اليهود حتى صحتِ کہ تم یہود کے شانہ بشانہ چلے یہاں تک کہ جوتے النعال بالنعال، وتشابهت الأقوال سے جو تا رگڑ کھانے لگا، اور تمہارے اقوال ان کے بالأقوال۔إنهم كانوا لِبُخْلهم اقوال کے مشابہ ہو گئے۔وہ [ یہودی] اپنے بخل کی سمون نبی الله عیسی دجالا، وجہ سے اللہ کے نبی عیسی کا نام دجال رکھتے تھے۔وکذالک سمیت منكم بهذا بعینہ اسی طرح تمہاری طرف سے مجھے اسی نام سے الاسم، فضاهيتم بهم أفعالا موسوم کیا گیا۔پس اس طرح تم اقوال اور افعال وأقوالا۔ولولا سيف الحكومة میں ان کے مشابہ ہو گئے۔اور اگر حکومت کی تلوار نہ ہوتی تو میں بھی تمہاری طرف سے وہی کچھ دیکھتا لأرى منكم ما رأى عيسى من جو عیسی نے انکار کرنے والوں کی طرف سے الكفرة۔ولذالك نشكر هذه دیکھا۔اس لئے ہم از راہ مداہنت نہیں بلکہ احسان الحكومة لا بسبيل المداهنة، بل کے شکرانہ کے طور پر اس حکومت کا شکر یہ ادا کرتے على طريق شكر المنّة۔ووالله إنا ہیں۔اور اللہ کی قسم ! ہم نے اس کے زیر سایہ ایسا رأينا تحت ظلها أمنًا لا يرجى من امن پایا جس کی اس زمانہ میں کسی اسلامی حکومت سے حكومة الإسلام في هذه الأيام توقع نہیں کی جاسکتی۔لہذا ہمارے نزدیک یہ جائز ولذالك لا يجوز عندنا أن يُرفع نہیں کہ ان کے خلاف جہاد کے نام پر تلوار اٹھائی عليهم السيف بالجهاد، وحرام علی جائے۔اور تمام مسلمانوں پر حرام ہے کہ وہ ان جميع المسلمين أن يحاربوهم سے جنگ کریں اور بغاوت اور فساد کیلئے کھڑے ويقوموا للبغاوة والفساد ذالك ہوں کیونکہ انہوں نے ہم پر طرح طرح کے بأنهم أحسنوا إلينا بأنواع الامتنان احسان کئے اور احسان کی جزا احسان ہی ہوتا ہے۔وهل جزاء الإحسان إلا الإحسان ؟ بے شک ان کی حکومت ہمارے لئے امن کا گہوارہ ولا شك أن حكومتهم لنا حمى الأمن ہے۔اور اس کی وجہ سے ہی ہم اہل زمانہ کے ظلم وبها عُصِمُنا من جور أهل الزمن سے بچائے گئے۔اور اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ ومع ذالك لا نخفي أنا نخالف نہیں چھپاتے کہ ہم پادریوں کے مخالف ہیں القسيسين، بل إنا لهم أوّل المخالفين بلکہ ہم ان کے اول درجہ کے مخالف ہیں۔