الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 11
ضمیمه حقيقة الوحي الاستفتاء ینصرك رجال نوحى إليهم من تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم السماء۔إذا جاء نصر الله الہام کریں گے۔جب خدا کی مدد آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرے گا۔تب کہا جائے گا۔هذه أنباء من الله مضى عليها یہ وانتهى أمر الزمان إلينا۔أليس کہ کیا یہ شخص جو بھیجا گیا حق پر نہ تھا اور چاہیے کہ هذا بالحق۔ولا تصغر لخلق تو مخلوق الہی کے ملنے کے وقت چیں بہ جبین نہ ہو الله، ولا تسأم من الناس۔ووسع اور چاہیے کہ تو لوگوں کی کثرت ملاقات سے تھک مکانك للواردين من الأحباء نہ جائے اور تجھے لازم ہے کہ اپنے مکانوں کو وسیع کرے تا تجھ سے محبت کرنے والے آئیں گے ان کو اترنے کے لئے گنجائش ہو۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ست وعشرون سنة إلى هذا وہ پیش خبریاں ہیں جن پر وحی الہی سے اس وقت الوقت من وقت الإيحاء۔وإن تک چھبیس سال کا زمانہ گذر گیا ہے۔اور اس في ذالك لآية للعقلاء۔میں عقل مندوں کے لئے بہت بڑا نشان ہے۔ثم بعد ذالك أيـد الله هذا پھر اس کے بعد اللہ نے اپنے اس بندے کی العبد كما كان وعده بأنواع تائید فرمائی جیسا کہ مختلف قسم کے انعامات اور الآلاء وألوان النعماء۔فرجع إليه طرح طرح کی نعمتوں کا اس کا وعدہ تھا جس کے فوج بعد فوج من الطلباء نتیجہ میں متلاشیان حق فوج در فوج اس کے بأموال وتحايف وما يسر من پاس اموال ، تحفے اور ہر وہ چیز جو انہیں میسر الأشياء ، حتى ضاق عليهم تھی لے کر آئے یہاں تک کہ اب ان کے لئے المكان وكاد أن يسأم من كثرة جگہ تنگ ہوگئی اور قریب تھا کہ ملاقات کی کثرت تھا اللقاء۔هناك تمّ ما قال الله کے باعث وہ اکتا جائے تا کہ جو اللہ نے صدقا وحقا، ومَن أوفى فرمایا تھا وہ سچا اور حق ثابت ہو۔اور حضرت بوعده من حضرة الكبرياء ؟ كبرياء سے بڑھ کر اور کون وعدہ پورا کر سکتا ہے 6