الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 11

ضميمه حقيقة الوحي 11 الاستفتاء ینصرک رجال نوحى إليهم من تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم السماء۔ إذا جاء نصر الله الہام کریں گے۔ جب خدا کی مدد آئے گی اور زمانہ ہماری طرف رجوع کرے گا ۔ تب کہا جائے گا۔ وانتهى أمر الزمان إلينا ۔ أليس کہ کیا یہ شخص جو بھیجا گیا حق پر نہ تھا اور چاہیے کہ هذا بالحق۔ ولا تصعر لخلق تو مخلوق الہی کے ملنے کے وقت چیں بہ جبین نہ ہو الله، ولا تسأم من الناس۔ ووسع اور چاہیے کہ تو لوگوں کی کثرت ملاقات سے تھک مکانك للواردين من الأحباء ۔ نہ جائے اور تجھے لازم ہے کہ اپنے مکانوں کو وسیع کرے تا تجھ سے محبت کرنے والے آئیں گے ان کو هذه أنباء من الله مضى عليها اترنے کے لئے گنجائش ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ست و عشرون سنة إلى هذا وہ پیش خبریاں ہیں جن پر وحی الہی سے اس وقت الوقت من وقت الإيحاء ۔ وإن تک چھبیس سال کا زمانہ گزر گیا ہے۔ اور اس في ذالك لآية للعقلاء ۔ میں عقل مندوں کے لئے بہت بڑا نشان ہے۔ ثم بعد ذالك أيد الله هذا پھر اس کے بعد اللہ نے اپنے اس بندے کی العبد كما كان وعده بأنواع تائید فرمائی جیسا کہ مختلف قسم کے انعامات اور الآلاء وألوان النعماء ۔ فرجع إليه طرح طرح کی نعمتوں کا اس کا وعدہ تھا جس کے فوج بعد فوج من الطلباء ، نتیجہ میں متلاشیان حق فوج در فوج اس کے بأموال وتحايف و ما يسر من پاس اموال ، تحفے اور ہر وہ چیز جو انہیں میسر الأشياء ، حتى ضاق عليهم تھی لے کر آئے یہاں تک کہ اب ان کے لئے المكان وكاد أن يسأم من كثرة جگہ تنگ ہو گئی اور قریب تھا کہ ملاقات کی کثرت اللقاء۔ هناك تمّ ما قال الله کے باعث وہ اکتا جائے تا کہ جو اللہ نے صدقا وحقا، ومن أوفى فرمایا تھا وہ سچا اور حق ثابت ہو۔ اور حضرت بوعده من حضرة الكبرياء ؟ کبریاء سے بڑھ کر اور کون وعدہ پورا کر سکتا ہے