الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 134

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۳۴ الاستفتاء وإنهم ما كانوا ليغلبو كم، ولكن اور وہ تم پر غالب نہیں آسکتے تھے مگر تم حفاظت کرنے ذهبتم إلى الفلاة من الحماة، والوں کو چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے گئے ہو اور وإلى الموامی مِن حمى الحامی پناہ دینے والے کی پناہ سے بیابان کی طرف نکل گئے وأنـفــدتــم زاد العلوم، وصرتم ہو اور تم نے علوم کا تو شہ ختم کر دیا اور تم ایک تنگدست كالبائس المحروم، وجعلتم محروم کی طرح ہو گئے اور تم نے اپنے آپ کو أنفسكم کشیخ مفند لا رأی له ولا ایک ایسے پیر فرتوت کی طرح بنالیا جس کی نہ کوئی عــقــل، أو كبهيمة لا تدرى إلا رائے ہوتی ہے اور نہ عقل۔یا پھر ایسے چوپائے کی البقل۔لا تقبلون سلاحًا نزل من طرح جو جڑی بوٹیوں کے سوا کچھ نہیں جانتا۔تم اس السماء من حضرة الكبرياء ، أما ہتھیار کو قبول نہیں کرتے جو آسمان سے حضرت أسلحة الدنيا فليست بشيءٍ کبریاء کی طرف سے اترا ہے۔رہے دنیا کے ہتھیار بمقابلة هؤلاء الأعداء۔فالآن مسـكـنـكـم فـلاة عوراء ، ودَشت تو وہ ان دشمنوں کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں۔پس اب تمہاری جائے رہائش چٹیل بیابان اور ایسے ليس هنالك الماء۔وإنكم تتركون متعمدين عيونا جاريةً دشت ہیں جہاں پانی نہیں۔تم عمداً ایسے چشمہ ہائے رواں کو چھوڑ رہے ہو جو پیاسے کو سیراب کرتے تروى العطشان و تختارون موامی ہیں۔تم بیابانوں کو ترجیح دیتے ہو اور ہلاک کرنے ولا تخافون الغيلان، وقد ذابت الهاجرة الأبدان۔ما لكم لا تأوون والوں سے نہیں ڈرتے۔اور دو پہر کی گرمی نے إلى هذا الظـل الـرحـب الذى (تمہارے) بدنوں کو پچھلا دیا ہے۔تمہیں کیا ہو گیا ينجيكم من الحرور، ويهديكم إلى ہے کہ تم اس کشادہ سایہ تلے پناہ نہیں لیتے جو تمہیں ماء عذب، ويبـعـدكـم عن حفر شدت گرمی سے بچائے اور تمہیں آب شیریں کی القبور؟ وإن أكبر الدلايل على طرف لے جائے اور تمہیں قبروں کے گڑھوں سے صدق من ادعى الرسالة، هو دور رکھے۔مدعی رسالت کے صدق کی سب سے وجود زمان كمل الضلالة بڑی دلیل ضلالت سے بھر پور زمانے کا ہونا ہے۔