الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 132

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۳۲ الاستفتاء وإن خزائنه خارجة من الحد اور اس کے خزانے حد و قیاس سے باہر ہیں۔پس والقياس۔فمن زاد سؤالا زاد جو زیادہ مانگے گا زیادہ انعام پائیگا۔پس ایمان کی نوالا۔فمن حُسن الإيمان أن لا ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ کی عطا سے ييأس العبد من عطائه، ولا يحسب مایوس نہ ہو اور اس کے دروازہ کو اس کے پیاروں پر با به مسدودًا على أحبائه۔وإنّكم بند خیال نہ کرے۔اور اے لوگو! یقیناً تم اللہ کی أيها الناس تحتاجون إلى نعم الله نعمتوں اور اس کی عنایات کے محتاج ہو۔پس یہ وآلائه، فمن الشقوة أن تردّوا نعمه بدبختی ہوگی کہ تم اس کی عطا کردہ نعمتوں کو رد کر دو۔بعد إعطائه وأى جوعان أشقى من اس بھو کے شخص سے بڑھ کر بد بخت اور کون جائع أشرف على الموت، وإذا ہو سکتا ہے جو قریب المرگ ہو اور جب اسے لذیذ غرض عليه طعام لذيذ ورغيف کھانا اور عمدہ روٹی پیش کی جائے وہ اسے رد کر لطيف ردّه وما أخذه وما نظر إليه، دئے اور اسے نہ لئے اور اس پر نگاہ تک نہ ڈالے وهو فَل الجوع وطريده، ومع جبکہ وہ بھوک کا مارا ہوا اور بے حال ہولیکن اس کے باوجود وہ اس کی خواہش نہ کرے۔ذالك لا يريده۔فاعلموا أيها الإخوان، رحمكم اے بھائیو! رحمان خدا تم پر رحم فرمائے! جان لو الله الرحمن۔۔إني جئتكم کہ میں تمہارے لئے آسمان سے ایک کھا نالا یا ہوں بطعام من السماء ، وقد حقق اور اللہ نے اس صدی کے سر پر تمہاری آرزؤوں کو الله لكم آمالكم على رأس هذه پورا کیا اور تم ان کے پورا ہونے کی دعا کیا کرتے المائة، وكنتم تطلبونها بالدعاء تھے۔سو اس نے تم پر اپنی نعمتوں کے دروازے ففتح عليكم أبواب الآلاء ، کھول دیئے۔کیا تم ان ( نعمتوں ) کو قبول کرو گے؟ فهل أنتم تقبلون ؟ و أعلم أنكم مجھے معلوم ہے کہ تم مجھ سے ہر گز خوش نہیں ہو گے۔لن ترضواعنى حتى أتبع جب تک کہ میں تمہارے عقائد کی پیروی نہ عقائدكم، وكيف أترک وحی ربّی کروں۔اور میں اپنے رب کی وحی کیسے چھوڑ دوں