الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 131
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۳۱ الاستفتاء ولو كان كذالك لكان هذا اور اگر ایسے ہوتا تو یہ قوم تمام بدبخت قوموں سے القوم أشقى الأقوام، لا تُسفر زیادہ بد بخت ہوتی کہ نہ ان کی صبح تابناک ہوتی اور ۵۳) صباحهم، ولا تُسمع صياحهم، نہ ان کی چیخ و پکار سنی جاتی اور وہ آہ و بکاء کی حالت میں ويموتون في بكاء وأنين۔كلا۔۔مرجاتے۔ایسا ہر گز نہیں بلکہ اللہ سب سے بڑھ کر بل الله أرحم الراحمين۔و إنه ما رحم کرنے والا ہے اور اس نے بھوک پیدا کی تو اس خلق جوعًا إلا خلق معه طعامًا کے ساتھ ہی اس نے بھوکے کے لئے کھانا بھی پیدا للجوعان، وما خلق غليلا إلَّا کیا۔پیاس پیدا کی تو پیاسے کیلئے پانی بھی پیدا کیا خلق معه ماءً للعطشان اور معرفت کے طالبوں کیلئے بھی اس کی یہی سنت و کذالک جرت سنته لطلباء جاریہ ہے۔میں نے بچشم خود یہی دیکھا ہے پھر یہ کیسے العرفان۔وإني عاينتها فكيف ممکن ہے کہ میں مشاہدہ کے بعد اس کا انکار کروں۔أنكرها بعد المعاينة، وجربتها اور میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے پھر اس تجربے فكيف أشك فيها بعد التجربة کے بعد میں اس میں کیونکر شک کر سکتا ہوں۔ولا بد لنا أن ندعو الناس إلى ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم لوگوں کو علی وجہ ما وجدناه على وجه البصيرة البصيرت اس طرف بلائیں جسے ہم نے پایا ہے۔فوجب على كل من يؤمن بالله اس لئے ہر اس شخص کے لئے جو خدائے لگانہ پر الوحيد، ولا يأنف من كلمة ایمان رکھتا ہے اور کلمہ توحید سے ناک بھوں التوحيد، أن لا يقنع بالأطمار نہیں چڑھاتا، لازم ہے کہ وہ بوسیدہ کپڑوں پر ويـطـلـب الـسـابـغـات من حلل قناعت نہ کرے ( بلکہ ) دین کے فاخرانہ لباس کا الدين، ويرغب فی تکمیل الدثار متلاشی ہو اور ظاہری اور باطنی لباس کی تکمیل والشعار، ويقرع باب الکریم کے لئے رغبت دکھائے اور کمال صدق اور اضطرار بكمال الصدق والاضطرار۔وإنه سے رب کریم کا دروازہ کھٹکھٹائے۔وہ (اللہ ) جواد لا يسأم من سؤال الناس بہت سخی ہے وہ لوگوں کے سوال سے اکتا تا نہیں