الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 128

ضميمه حقيقة الوحي ۱۲۸ الاستفتاء ليحق الحق ويُبطل الباطل، تا کہ وہ زبردست دلائل اور روشن معجزات سے حق کو بالحجج القاهرة، والمعجزات حق اور باطل کو باطل ثابت کر دے۔ پھر اس کے الباهرة ۔ ثم بعد ذالك دعوت بعد میں نے پادریوں اور عیسائیوں اور عیسائیت القسيسين والنصاری میں داخل ہونے والوں اور ان کے علاوہ برہمنوں والمتنصرين وغيرهم من اور مشرکوں کو دعوت دی اور انہیں کہا کہ اللہ کے البراهمة والمشرکین، وقلت: نشانوں اور اس کی نصرت کے ذریعہ حق کو پرکھو جربوا الحق بآيات الله ونصرته تا یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اللہ کی طرف سے نصرت ليظهر من ينصر من الله ومن يكون یافتہ ہوگا اور کون اس کی لعنت کا مورد ہوگا۔ مگر وہ محلّ لعنته۔ فما بارزوا لهذا النضال ہتھیار بند پہلوانوں کی طرح اس مقابلہ کیلئے نہ كالكماة، واختفوا في الوكنات نکلے اور اپنے آشیانوں میں چھپ گئے ۔ اور اللہ کی ووالله، لو بارزوا لما رمى ربّى إلا قسم ! اگر وہ میدان میں آتے تو میرا رب ٹھیک ٹھیک صايبا، وما رجع أحد منهم إلا نشانے پر تیر برساتا اور ان میں سے ہر ایک ناکام خاسرا وخايبًا۔ ووالله، إن فتشت و نامراد ہو کر لوٹتا۔ اور اللہ کی قسم اگر تو تحقیق کرتا لرأيت الإسلام كنز الآیات تو دیکھ لیتا کہ اسلام نشانات کا خزینہ اور ان کا شہر ومدينتها، وتجد فيه نورا يهب ہے اور تو اس میں ایسا نور پاتا جو ہر شخص کو اسکی لكل نفس سكينتها ۔ فيا حسرة سكيت بخشا۔ پس افسوس ہے ایسے لوگوں پر على قوم يكفرون بدفائنه، ولا جو اس کے دفینوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کے يتوجهون إلى خزائنه، ويحسبون خزائن کی طرف کچھ توجہ نہیں کرتے اور اسلام کو اسے الإسلام كالعظام الرميمة، لا بوسیدہ ہڈیوں کی طرح سمجھتے ہیں عظیم نعمتوں ۵۲) مملوا من النعم العظيمة۔ أو لٹک بھرا ہوا نہیں سمجھتے ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اس بات قوم لا يؤمنون بأن يكلم الله پر ایمان نہیں لاتے کہ ہمارے سید و مولی حضرت أحدا بعد سيدنا المصطفى محمد ﷺ کے بعد اللہ کسی سے کلام کرتا ہے