الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 127

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۲۷ الاستفتاء وبشرني بأن الدين يُعلى ويشاع اور اس نے مجھے بشارت دی کہ دین اسلام سر بلند و مشلك دُر لا يضاع۔وكان هذا کیا جائے گا اور اس کی اشاعت کی جائے گی۔اور تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہوسکتا اور یہ پہلی وحی ہے جو قدیر نصیر خدا کی طرف سے اس عاجز کو کی أوّل ما أُوحِيَ إلى هذا الحقير، من الله القدير النصير۔وبشرني ربّى گئی۔اور میرے رب نے مجھے بشارت دی کہ وہ بأنه يُظهر لی آیات باهرات میرے لئے درخشاں نشان ظاہر فرمائے گا وينصرني بتأییدات متواترات اور پے در پے تائیدات سے میری مدد کرے گا بقيه حاشية: وما كان هذا إلَّا جواب بقیه حاشية اور یہ ان مکفرین کو جواب دیا گیا ہے۔جو مجھے المكفّرين الذين يحسبونني من أهل جهنم، جہنمی خیال کرتے ہیں اور اگر تو شک میں مبتلا ہے تو مفتیوں سے وإن كنت في شك فاسأل المفتين۔ومن دریافت کر لے۔اور عالم برزخ کے عجائبات میں سے یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ ان کی موت کے بعد نبی ﷺ کے روضہ مبارک کے قریب کئے جاتے ہیں۔جس کے نیچے جنت ہے اور بعض لوگ اس عجائب عالم البرزخ أنّ بعض الناس بعد موتهم يقربون إلى روضة النبي التي تحتها روضہ سے دور کئے جاتے ہیں۔پس رسول ﷺ نے میرے بارہ میں الجنة، وبعضهم يُبعدون منها، فأخبر لى یہ خبر دی ہے کہ میں مقربین میں سے ہوں اور یہ اس شخص کے رسولى أنى من المقربين۔وهذا رد على من اعتراض کارڈ ہے جس نے کہا کہ یہ شخص جہنمیوں میں سے ہے۔اور قال إنــه مـن جهـنّـمـيين۔وهذا الدفن الذی یہ ایسی تدفین ہوگی جس کو اللہ تعالیٰ روحانی طریق پر پورا کرے گا اور يكمله الله على الطريقة الروحانية أمر يوجد یہ ایسا امر ہے جس کے اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کے في كتاب الله وقول رسوله أثره ، واتفق علیہ ارشادات میں اشارے پائے جاتے ہیں اور جس پر روحانیت سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ کا اس پر اتفاق ہے۔طائفة قوم روحانيين۔وكذالك قالوا إن جماعة هذا الرجل قوم اسی طرح انہوں نے کہا کہ اس شخص کی جماعت کے لوگ کافر ہیں۔مومن نہیں۔پس ان کے وفات یافتوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں كافرون لا من المؤمنين، فلا تدفنوا موتاهم في دفن نہ کرو۔کیونکہ یہ بدترین کافر ہیں۔تو میرے رب نے مجھے وحی کی مقابر المسلمين، فإنهم شر الكافرين۔فأوحى اور ایک قطعہ زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ ایسا قطعہ زمین ہے إلى ربّى وأشار إلى أرض وقال إنها أرض جس کے نیچے جنت ہے۔جو اس میں دفن کیا جائے گا وہ جنت میں داخل تحتها الجنّة، فمن دفن فيها دخل الجنة، وإنه ہوگا۔اور وہ امن دیئے جانے والوں میں سے ہوگا۔پس اگر دشمنوں کی من الآمنين۔فلولا أقوال الأعداء ما كان وجود باتیں نہ ہوتیں تو ان انعامات کا وجود بھی نہ ہوتا۔پس ان کے غضب هذه الآلاء۔فهيج غضبهم رحمة الله، فالحمد نے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش دلایا۔پس تمام قسم کی تعریفیں اللہ کے لئے لله ربّ العالمين۔منه ہیں جو رب العالمین ہے۔منہ