الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 10
ضمیمه حقيقة الوحي الاستفتاء 6 ولا يـمــون عـلـيـه كـالأشقياء ، | اور وہ بد بختوں کی طرح اس سے نہیں گزر جاتے ويقولون ربنا آمنا فاكتبنا في اور وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے ہیں پس تو ہمیں اپنے مومن عبادك المؤمنين وفي الشهداء۔ثم اعلموا رحمكم الله، ان بندوں اور گواہوں میں لکھ لے۔زمن هذه الأنباء كان زمنا لم يكن اور پھر تم جان لو اللہ تم پر رحم فرمائے ان خبروں کا زمانہ وہ ہے جس میں ان کے ظہور کا کوئی نشان نہ فيه أثر من ظهورها، ولا جلوة من تھا نہ ان کا نور جلوہ آراء تھا اور نہ ہی ان کے مخفی امور نورها، ولا باب إلى مستورها، تک کوئی دروازہ تھا۔بلکہ یہ معاملہ لوگوں کی آنکھوں بل كان الأمر أمرًا مخفيا من الأعين والآراء ، وكان هذا العبد اور خیالات سے مخفی تھا اور یہ بندہ گوشہ گمنامی میں مستور تھا۔اسے صرف وہ تھوڑے سے لوگ مستورًا في زاوية الاختفاء، لا د يعرفه أحد إلا قليل من الذين جانتے تھے جو ابتدا سے اس کے والد سے آشنا تھے كانوا يعرفون أباه في الابتداء۔اگر تم چاہو تو اس بستی کے رہنے والوں سے جس کا وإن شئتم فاسألوا أهل هذه القرية نام قادیان ہے اور اس کے ارد گرد مسلمانوں ، التي تُسمى قادیان و اسألوا من مشرکوں اور دشمنوں کی بستیوں کے رہنے والوں حولها من قرى المسلمين والمشرکین سے بھی پوچھ لو۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اس والأعداء۔وفی ذالک الوقت سے مخاطب ہوا اور فرمایا تو مجھ سے ایسا ہے جیسا خاطبه الله تعالى وقال: أنت منى میری توحید اور تفرید۔پس وہ وقت آتا ہے کہ تو بمنزلة توحيدى وتفریدی مدد دیا جائے گا اور دنیا میں مشہور کیا جائے گا۔وہ فحان أن تُعان وتُعرَف بين مدد ہر ایک دور کی راہ سے تجھے پہنچے گی اور ایسی الناس۔يأتون من كل فج عميق۔راہوں سے پہنچے گی کہ وہ راہ لوگوں کے بہت چلنے يأتيك من كل فج عمیق سے جو تیری طرف آئیں گے، گہرے ہو جائیں۔