الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 126
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۲۶ الاستفتاء ديار بعيدة لنفع الأنام۔فلمّا جرّ وألفت فيها كُتبًا وأشعتها إلى اور اس بارہ میں میں نے بہت سی کتابیں تالیف کیں اور لوگوں کے فائدے کی خاطر دور دراز ملکوں تک ان کی اشاعت کی ہے۔پھر جب ہمارے درمیان الجدال فينا ذيله، وما رأيت أحدًا اس بحث نے طول پکڑا اور میں نے ایک شخص بھی أن يُظهر إلى الإسلام میله ایسا نہیں دیکھا جو اسلام کی طرف میلان ظاہر کرے فهمت أن الأمر محتاج إلى تو میں سمجھ گیا کہ یہ معاملہ منان خدا کی نصرت کا محتاج نصرة الله المنّان، ولست بشیء ہے۔اور میں خود تو کچھ بھی نہیں ہوں یہاں تک کہ خدائے رحمان کی رحمت مجھے آئے تو میں اس کی حتى يدركني رحمة الرحمن۔نصرت کا سوالی بن کر آستانہ الہی پر گر گیا اور میں محض فخررت على الحضرة سائلا مردہ کی طرح تھا۔تب میرے رب نے دو کلمات للنصرة، وما كنت إلَّا كالميت سے مجھے زندہ کیا اور آنکھوں کو منور کیا اور فرمایا: فأحياني ربي بالكلمتين، ونوّر یعنی ” اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی۔وہ العينين، وقال: يا أحمد بارک خدائے رحمان ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا ہے۔کہ تا تو ان لوگوں کو ڈرا وے جن کے باپ دادا اللہ فیک۔الرّحمن علم القرآن۔نہیں ڈرائے گئے اور تا خدا کی حجت پوری لتنذر قومًا ما اندر آباؤهم ہو جاوے اور مجرموں کی راہ کھل جائے۔ان کو کہہ ولتستبين سبيل المجرمین۔قُل دے کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور سب 66 ☆ إنّى أُمرت وأنا أوّل المؤمنين سے پہلے اس بات پر میں ایمان لانے والا ہوں ، إن الأعداء من أهل القبلة يسمونني اہل قبلہ میں سے مرے دشمن میرا نام اول الکافرین رکھتے أول الكافرين، فسبق القول من الله لردّھم فی ہیں۔ان کی تردید میں اللہ تعالیٰ کا قول جو میری کتاب براہین کتابی "البراهين" وقال : قُلْ إنى أمرتُ وأنا احمد یہ میں آچکا ہے۔" کہہ میں مامور ہوں اور میں اس بارہ میں تمام أول المؤمنين۔وقالوا لا يُدفن هذا الرجل مومنوں میں سے پہلا ہوں۔اور انہوں نے کہا کہ اس شخص کو في مقابر المسلمين، فسبق القول من مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔تو اس کے رڈ میں الرسول الردّهم، وقال إن المسيح الموعود رسول اللہ ﷺ کا قول آچکا ہے کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا علیہ يُدفن في قبرى، وإنه يُبعث معى يوم الدين۔جائے گا اور قیامت کے روز میرے ساتھ ہی مبعوث کیا جائے گا“