الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 126

ضميمه حقيقة الوحي ۱۲۶ الاستفتاء وألفت فيها كتبًا وأشعتها إلى اور اس بارہ میں میں نے بہت سی کتابیں تالیف کیں اور لوگوں کے فائدے کی خاطر دور دراز ملکوں تک ديار بعيدة لنفع الأنام۔ فلما جرّ ان کی اشاعت کی ہے۔ پھر جب ہمارے درمیان الجدال فينا ذيله، وما رأيت أحدًا اس بحث نے طول پکڑا اور میں نے ایک شخص بھی أن يظهر إلى الإسلام میله ایسا نہیں دیکھا جو اسلام کی طرف میلان ظاہر کرے فهمت أن الأمر محتاج إلى تو میں سمجھ گیا کہ یہ معاملہ منان خدا کی نصرت کا محتاج نصرة الله المنان، ولست بشيء ہے۔ اور میں خود تو کچھ بھی نہیں ہوں یہ یہاں تک کہ خدائے رحمان کی رحمت مجھے آئے تو میں اس کی حتى يدركني رحمة الرحمن۔ نصرت کا سوالی بن کر آستانہ الہی پر گر گیا اور میں محض فخررت على الحضرة سائلا مردہ کی طرح تھا۔ تب میرے رب نے دو کلمات للنصرة، وما كنت إلا كالميت۔ سے مجھے زندہ کیا اور آنکھوں کو منور کیا اور فرمایا: فأحياني ربي بالكلمتين، ونوّر یعنی ”اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی ۔ وہ العينين، وقال: يا أحمد بارك خدائے رحمان ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا ہے۔ الله فيك۔ الرحمن علم القرآن۔ کہ تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے اور تا خدا کی حجت پوری لتنذر قوما ما أنذر آباؤهم، ہو جاوے اور مجرموں کی راہ کھل جائے ۔ ان کو کہہ ولتستبين سبيل المجرمين۔ قُل دے کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور سب ☆ ،، إني أمرت وأنا أول المؤمنين سے پہلے اس بات پر میں ایمان لانے والا ہوں لا إن الأعداء من أهل القبلة يسموننی اہل قبلہ میں سے مرے دشمن میرا نام اول الکافرین رکھتے أول الكافرين، فسبق القول من الله لردّهم فی ہیں۔ ان کی تردید میں اللہ تعالیٰ کا قول جو میری کتاب براہین کتابي البراهين وقال: قُلْ إني أُمرت وأنا احمد یہ میں آچکا ہے۔ ”کہہ میں مامور ہوں اور میں اس بارہ میں تمام أول المؤمنين۔ وقالوا لا يُدفن هذا الرجل مومنوں میں سے پہلا ہوں۔ اور انہوں نے کہا کہ اس شخص کو في مقابر المسلمين، فسبق القول من مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔ تو اس کے رد میں الرسول لردّهم، وقال إن المسيح الموعود رسول اللہ ﷺ کا قول آچکا ہے کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن کیا يُدفن في قبرى، وإنه يبعث معى يوم الدين جائے گا اور قیامت کے روز میرے ساتھ ہی مبعوث کیا جائے گا“ صلى الله ۔