الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 125
ضمیمه حقيقة الوحي ۱۲۵ الاستفتاء إِنَّ مَثَلَ عِنْسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ اللہ کے نزدیک عیسی کی حالت آدم کی حالت کی خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنُ طرح ہے جسے اس نے خاک سے پیدا کیا پھر اسے کہا فَيَكُونُ ولكنا لا نرى جواب کہ ہوجا تو وہ ہوگیا لیکن ہم عیسی کے رفع اور اس کے خصوصية رفع عیسی ونزوله نزول کی خصوصیت کا جواب قرآن میں نہیں پاتے۔في القرآن، مع أنه أكبر الدلايل جبکہ وہ صلیبیوں ں کے ہاں الوہیت عیسی پر تمام دلائل على ألوهية عيسى عـنـد میں سے سب سے بڑی دلیل ہے۔اگر ہمارے أهل الصلبان۔فلو كان أمر صعود رب رحمن کے علم میں عیسی کے آسمان پر چڑھنے اور عيسى وهبوطه صحيحًا في علم ربنا الرحمن، لكان من الواجب أن وہاں سے اترنے کا معاملہ درست ہوتا تو لازمی تھا کہ يذكر الله مثیل عیسى فى هذه الله فرقانِ حمید میں بھی عیسی کے مثیل کا ذکر فرماتا الصفة في الفرقان، كما ذكر آدم جس طرح اس نے حضرت آدم کا ذکر فرمایا ہے تا کہ ليبطل به حُجّة أهل الصلبان۔فلا وہ اس طرح عیسائیوں کی حجت کو باطل کرے۔شك أن في ترك الجواب إشعار بلا شبہ اس ترک جواب میں یہ اظہار موجود ہے کہ بأن هذه القصة باطلة لا أصل لها يه قصه باطل اور بے بنیاد ہے اور محض غیر معقول وليس إلا كالهذيان۔أتعلمون أتى باتوں کی طرح ہے۔کیا تم جانتے ہو کہ وہ کونسی مصلحة منعت الله من هذا مصلحت تھی جس نے خدا تعالیٰ کو اس جواب سے روکا۔الجواب؟ وقد كان حقًّا على الله حالانکہ یہ اللہ پر لازم تھا کہ وہ جواب دیتا اور نصاریٰ أن يجيب ويجيح زعم النصارى کے اس خیال کی بالاستیعاب بیخ کنی کرتا۔اور بالاستيعاب۔وإن علماء النصارى عیسائی علماء ایسے لوگ ہیں جو ہر روز اپنے غلو میں قوم يزيدون كل يوم في غلوّهم ولا يلتفتون إلى الحق من تكبرهم بڑھتے چلے جارہے ہیں اور اپنے تکبر اور سرکشی کی وجہ وعلوهم۔وإنى أتممت عليهم سے حق کی طرف توجہ نہیں کرتے۔اور میں نے اسلام حجة الله لتأييد الإسلام کی تائید کے لئے ان پر اللہ کی حجت تمام کر دی ہے۔آل عمران: ۶۰ ۵۱