الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 124

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۲۴ الاستفتاء وقد ماتت من قبله النبيون۔جب کہ ان سے پہلے تمام نبی فوت ہو چکے ہیں۔کیا وہ أيعرضون عن الإجماع المستند اس مستند اجماع سے اعراض کریں گے جو واضح اور إلى النصّ الجَلِي، أم هم روشن نص پر قائم ہے یاوہ خود فیصلہ کرنے والے ہیں۔الحاكمون؟ والله إن عیسی اللہ کی قسم ! عیسی فوت ہو گئے۔اور وہ حق صریح سے مات، وإنهم يعاندون الحق عناد رکھتے ہیں اور وہ کچھ کہہ رہے ہیں جو قرآن الصريح، ويقولون ما يخالف کے خلاف ہے اور وہ اللہ سے ڈرتے نہیں۔اور القرآن وما يخافون وأى إشكال انہیں عیسی کی موت کے بارے میں کیا اشکال يأخذهم في موت عيسی بل هم در پیش ہے، دراصل وہ حد سے تجاوز کرنے والی قوم مسرفون۔يخصصونه بصفة قوم ہیں۔وہ اسے ( یعنی عیسی کو ) ایسی صفت سے لا توجد في أحد من الناس، خاص کر رہے ہیں جو انسانوں میں سے کسی شخص ويؤيدون النصاری و هم میں نہیں پائی جاتی۔وہ جانتے بوجھتے ہوئے يعلمون۔و كيف تقبل غیرةُ الله عیسائیوں کی تائید کرتے ہیں اور اللہ کی غیرت یہ أن يُخصص أحد بصفة لا شریک کیسے گوارا کر سکتی ہے کہ کوئی شخص ایسی صفت له فيها من بدء الدنيا إلى آخرها كيسا تھ مخصوص کیا جائے جس میں ابتدائے دنیا وأى عقيدة أقرب إلى الكفر سے اس کی انتہا تک اس کا کوئی شریک نہ ہو۔اس منها، لو كانوا يتدبرون فإن سے بڑھ کر کون سا عقیدہ کفر کے زیادہ قریب التخصيص أساس الشرک ہے۔کاش وہ غور کرتے کیونکہ ایسی تخصیص شرک وأى ذنب أكبر من الشرك أيها کی بنیاد ہے۔اے جاہلو! شرک سے بڑا کونسا گناہ الجاهلون؟ وإذ قالت النصارى ہے اور جب نصرانیوں نے کہا کہ عیسی بن باپ إن عيسى ابن الله بما تولد من ولادت کی وجہ سے ابن اللہ ہے اور وہ اس غير أب، وكانوا به يتمسكون عقیدہ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں تو اللہ نے فأجابهم الله بقوله: اس قول کے ذریعہ انہیں جواب میں فرمایا کہ