الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 123

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۲۳ الاستفتاء وتعلمون أن نزول المسیح اور تم جانتے ہو کہ بلا کسی تخصیص مسیح موعود کا نزول الموعود بدون تخصيص أمر ایسا امر ہے جس پر ہم اور تم بلا اختلاف ایمان رکھتے نؤمن به وتؤمنون به من غیر ہیں۔پس ہمارے اور تمہارے درمیان اصل جھگڑا خلاف۔فأصل النزاع بيننا ابن مریم کے آسمان سے نزول کے متعلق ہے۔اس وبينكم في نزول ابن مریم من لئے اللہ نے اپنے روشن صحیفوں میں اس کی موت کی السماء ، فقضى الله هذا النزاع خبر دے کر اس نزاع کا فیصلہ فرما دیا پس جسے اللہ بإخبار موته فى صحفه الغراء ہدایت دینا چاہتا ہے تو وہ اس کے سینے کو قرآنی بیان فمن يُرِدِ الله أن يهديه يشرحُ کے لئے کھول دیتا ہے۔اور فرقان حمید کے بعد صدره لبيان القرآن۔وأي كتاب ہمارے اور تمہارے نزدیک وہ کون سی ایسی کتاب عندنا أو عندكم يتمسک به بعد ہے جسے مضبوطی سے پکڑا جاسکتا ہے؟ حیف ہے تم الفرقان؟ يا حسرات علیکم۔۔لا پر کہ نہ تو تم مناظرہ کے لئے حاضر ہوتے ہو اور نہ تحضرون للمناظرة ولا تجيئون مباہلہ کے لئے آتے ہو۔ہاں دور سے حملے کر رہے للمباهلة، ومن بعيد تطعنون ہو۔اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس کے وعـنـدنـا دلائل كثيرة من كتاب رسول کی سنت سے کثیر دلائل موجود ہیں۔پس ہم الله وسنة رسوله فكيف نعرض ان لوگوں کے سامنے انہیں کیسے پیش کریں جو على الذين يُعرضون؟ ألا يعلمون اعراض کر رہے ہیں۔کیا وہ نہیں جانتے کہ بدعتی اور أن المبتدعين والكافرين لا کافر اللہ تعالیٰ سے تائید یافتہ نہیں ہوتے اور نہ ہی يؤيدون من الله ولا هم وہ مدد دیئے جاتے ہیں۔اور نہ ہی اللہ کے يُنصرون؟ ولا قبول لهم عند ہاں انہیں قبولیت حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی وہ الله، ولا هم كالأبرار يؤثرون؟ نیکوکار لوگوں کی طرح ترجیح دیئے جاتے ہیں۔وہ وأى ذنب ينسبون إلى من غير کون سا گناہ میری طرف منسوب کرتے ہیں سوائے أنـى نـعـيـت إليهم بموت عیسی اس کے کہ میں نے انہیں عیسی کی موت کی خبر دی