الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 121

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۲۱ الاستفتاء ولا يـنـكـره إلَّا من أنكر نصوص اور اس کا انکار صرف وہی شخص کرتا ہے جو قرآن اور الحديث والقرآن۔ولو شاء الله حدیث کی نصوص کا منکر ہے۔اور اگر اللہ کی مشیت لفهم من أنكره، ولكنه يضل من ہوتی تو وہ ضرور ایسے منکر کو اس کا فہم عطا کرتا لیکن وہ يشاء ، ويهدي من يشاء ، وإليه جسے چاہے گمراہ قرار دیتا ہے اور جسے چاہے ہدایت يرجعون۔وإن يتبعون إِلَّا ظَنَّا، وما دیتا ہے،اور وہ سب اُسی کی طرف لوٹائے جائیں نرى في أيديهم حجة بها گے۔وہ صرف ظن کی اتباع کرتے ہیں۔اور ہم ان يتمسكون۔والتمسّك بالأقوال کے ہاتھوں میں کوئی ایسی حجت نہیں دیکھتے جسے وہ الظنية تجاه النصوص التي هي قطعية الدلالة خيانة وخروج من مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں اور نصوص قطعیہ طريق التـقـوى فـويـل للذين الدلالت کے مقابل فظنی اقوال کو پکڑے رہنا خیانت لاينتهون۔سيقول الذين لا اور تقویٰ کی راہ سے خروج ہے۔پس ان لوگوں کے يتدبرون إن عیسی علم للساعة ، لئے جو باز نہیں آتے ہلاکت ہے۔ایسے لوگ جو تذ بر وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ سے کام نہیں لیتے وہ کہیں گے کہ عیسی قیامت کی نشانی بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ذالک قول سمعوا ہے۔اور تمام اہل کتاب اپنی موت سے قبل اس پر من الآباء ، وما تدبّروه كالعقلاء ضرور ایمان لائیں گے۔یہ وہ قول ہے جو انہوں نے ما لهم لا يعلمون أن المراد من اپنے آباء سے سنا ہوا ہے۔لیکن عقلمندوں کی طرح الـعـلـم تـولـده مـن غیر آب علی انہوں نے اس پر غور نہیں کیا۔انہیں کیا ہو گیا کہ وہ طريق المعجزة، كما تقدّم ذكره نہیں جانتے کہ علم ( نشان) سے مراد ان کا معجزانہ بغیر في الصحف السابقة، ولا ينكره أحد من أهل العلم والفطنة۔وأما باپ کے پیدا ہونا ہے۔اور کوئی صاحب علم و دانش إيمان أهل الكتاب كلّهم بعيسى اس کا انکار نہیں کرتا۔باقی رہا تمام اہل کتاب کا عیسی کما ظنّوا فی معنى الآية پر ایمان لانا جیسا کہ انہوں نے مذکورہ آیت کے معنیٰ المذكورة ، فأنت تعلم حقيقة سے سمجھا ہے تو تم اُن کے ایمان کی حقیقت کو خوب إيمانهم، لا حاجة إلى التذكرة۔جانتے ہو جس کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔النساء : ١٦٠