الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 120
ضميمه حقيقة الوحي ۱۲۰ الاستفتاء وأي شهادة أكبر وأعظم من هذه اور اس شہادت سے بڑی اور بڑی اور عظیم شہادت کیا ہوسکتی الشهادة ؟ ثم مع ذالك يصول ہے لیکن اس کے باوجود پھر بھی جاہل لوگ میری الجهلاء على عند سماع هذه اس بات کو سن کر مجھ پر حملہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں الكلمة، ويقولون: لو كان کہ اگر تلوار ہوتی تو ہم تجھے ضرور قتل کر دیتے۔ ٢٩ السيف لقتلناك۔ وإن سيف الله جب کہ اللہ کی تلوار اس گروہ کی تلواروں سے أحَدُّ من سيوف هذه الفرقة۔ ألم کہیں زیادہ تیز ہے۔ کیا ان میں سے بعض نے ير بعضهم ضرب سيفه عند مباہلہ کے وقت اللہ کی تلوار کی ضرب کا مشاہدہ المباهلة؟ وقد تكرّر فی القرآن نہیں کیا ؟ اور قرآن میں عیسیٰ کی وفات کا ذکر ذكر موت عيسى، وذكر إيوائه بتکرار ہوا ہے اور اس کا ذکر بھی ہوا ہے کہ آپ کو إلى ربوة ذات قرار ومعين۔ و ایک بلند جگہ میں پناہ دی جو نہایت پرسکون اور ثبت بدلايل أُخرى أنها أرض چشموں والی تھی ۔ اور دیگر دلائل سے یہ ثابت كاشمير باليقين۔ ووجد فيها قبر ہو گیا ہے کہ یہ قطعی طور پر سرزمین کشمیر ہے۔ اور عيسى، ووجد هذه القصة في وہاں عیسی کی قبر ملی ہے اور یہ قصہ قدیم کتابوں میں كتب قديمة لا بد من قبولها موجود ہے۔ جسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ وحصحص الحق، فالحمد لله اور حق کھل کر ظاہر ہو گیا اور ہر قسم کی تعریف کا اللہ رب العالمين۔ وشهد سكان ہی مستحق ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اور اس هذه الأرض أنه قبر نبى كان من سرزمین (کشمیر) کے رہنے والوں نے شہادت دی بني إسرائيل، وكان هاجر إلى ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے ایک نبی کی قبر ہے۔ جس هذه الأرض بعد إيذاء قومه، ومر نے اپنی قوم کی ایذا رسانی کے ! ز رسانی کے بعد اس سرزمین کی علیه قريب من الألفين طرف ہجرت کی تھی اور اس واقعہ پر انداز دو ہزار سال بالتخمين۔ فملخص الكلام ان کے لگ بھگ عرصہ گذر چکا ہے۔ پس خلاصہ کلام یہ موت عيسی ثابت بالبرهان که عیسی کی موت واضح دلیل سے ثابت شدہ ہے۔