الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 119

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۱۹ الاستفتاء أن هذه الفتنة التي حسبتموها هينا تمہیں معلوم ہو کہ یہ فتنہ (عیسائیت) جسے تم معمولی هي عند الله عظیم، وقد أهلکت سمجھتے ہو اللہ کے نزدیک بہت سنگین فتنہ ہے۔أفواجًا منكم وأدخلتها في نار الجحيم، اور اس فتنہ نے تم میں سے بہت سے لوگوں کو ہلاک ولذالك ذكرها الله سبحانه وتعالی کیا اور انہیں دوزخ کی آگ میں داخل کر دیا ہے في مواضع من كتابه الکریم و نسب اور یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی کتاب إليها تفطَّرَ السَّماء وخرَّ الجبال قرآن کریم میں کئی جگہوں میں اس ( فتنے ) کا ذکر وظهور آثار الغضب العظيم فرمایا ہے۔اور اسی عقیدہ کی طرف آسمان کا پھٹنا اور فو الله، إنّي أعجب كل العجب من پہاڑوں کا ریزہ ریزہ ہو کر گرنا اور عظیم غضب کے أن المسلمين نصروا النصارى بقول آثار کا ظہور منسوب کیا ہے۔اللہ کی قسم ! میں اس امر يخالف قول حضرة الكبرياء سے سخت حیران ہوں کہ مسلمانوں نے ایسے قول کے وقالوا إن عيسى رفع مع جسمه ذریعہ جو حضرت کبریا کے قول کے مخالف ہے العنصري إلى السماء ، ثم ينزل عیسائیوں کی مدد کی اور انہوں نے کہا کہ عیسی اپنے في زمان إلى الغبراء۔وهذا هو مادی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔اور وہ الدليل الأعظم عند النصارى على آئندہ کسی زمانہ میں زمین پر نازل ہوگا۔اور یہ اتخاذه إلها، وبه يُضلون كثيرًا من عیسائیوں کے نزدیک مسیح کو معبود بنانے پر سب سے الجهلاء۔والحَقُّ أنه مات ولحق بڑی دلیل ہے۔اور اسی دلیل کے ذریعہ وہ بہت الأموات، وعلى ذالک دلایل كثيرة سے جاہلوں کو گمراہ کرتے ہیں۔اور حقیقت یہ ہے من الكتاب والسنة، وقد ذکر کہ وہ وفات پا گیا اور مر دوں سے جاملا ، اور اس پر القرآن موته في المقامات کتاب وسنت میں بہت سے دلائل ہیں۔اور قرآن المتعدّدة، ورآه نبینا صلی اللہ علیہ نے اس کی موت کا ذکر متعدد مقامات پر کیا ہے۔وسلم فی الموتى ليلة المعراج اور ہمارے نبی ﷺ نے انہیں شب معراج میں عند يحيى في السماء الثانية كي کے پاس دوسرے آسمان پر مُردوں میں دیکھا۔