الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 118

ضمیمه حقيقة الوحي ۱۱۸ الاستفتاء بل ما زادتکم غیر تتبیب و ارتداد نہیں بلکہ تمہیں بربادی میں بڑھایا اور مرد و زن الرجال والنسوان۔فأى خير مرتد ہوئے۔پس اے جوانو ! اس کے بعد يُرجى منه بعده يا فتيان؟ ورأيتم اُس سے کس خیر کی امید رکھی جاسکتی ہے۔اور المتنصرين ما جُذبوا إلى تم دیکھ چکے ہو کہ عیسائیت قبول کرنے والے القسيسين إلا بهذه الحبال پادریوں کی طرف ان سے جالوں کے ذریعہ کھینچے گئے۔یہ وہ چور ہے جس نے انہیں ضلالت کے وهذا هو اللصّ الذي ألقاهم في کنوئیں میں پھینک دیا۔حالانکہ وہ اس ملت بئر الضلال۔وكانوا ذراري هذه (اسلامیہ) کی ذریت ونسل تھے۔اور پھر وہ سانپوں یا جنگل کے درندوں کی طرح ہو گئے۔اور انہوں نے اسلام سے عداوت کی اور اسے گدھوں جیسی ناپسندیدہ آواز کے ساتھ برا بھلا کہا۔اور الملة، ثم صاروا كالحيوات أو كسباع الأجمة۔وعادوا الإسلام وسیوه بـأنـكــر أصوات نهيق، وتركوا أقاربهم ووالديهم في اپنے قریبی رشتہ داروں اور والدین کو چیختے چلاتے زفير و شهيق، ووقفوا نفوسهم چھوڑ دیا۔اور خیر البریہ ع کو بُرا بھلا کہنے على سب خير البرية وتوهين اور کتب سابقہ میں سے اکمل ترین کتاب (قرآن کتــاب هـو أكـمـل مـن الكتب کریم ) کی توہین کرنے میں اپنی زندگی وقف کر السابقة، وقالوا: قريض، وأيّ دی۔اور انہوں نے کہا کہ یہ تو شاعرانہ کلام ہے رجل منه مستفيض؟ واتخذوا اور کون شخص اس سے فیضیاب ہورہا ہے۔اور ديننا سخرة، ولا يذكرونه إلا انہوں نے ہمارے دین کو تمسخر کا نشانہ بنایا، اور اس طعنة۔وقالوا إن مِتُّم على كاذكر صرف طعن کے رنگ میں کرتے ہیں اور کہا کہ کا هذا الدين دخلتم النار اگر تم اس دین (اسلام) کی حالت میں مرے تو باليقين۔فاعلم، وفقك الله یقینی طور پر آگ میں داخل ہو گے۔اللہ تمہیں صحیح راہ للصواب، وجنبک طرق العتاب کی توفیق دے۔اور عتاب کی راہوں سے بچائے